کیا ایران میں خامنہ ای کے فرزند کے سوا صدارت کے لیے کوئی موزوں امیدوار نہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی صدارتی انتخابات کی چودہویں مدت کے لیے امیدواروں کےناموں کے اندراج کے آغاز کے ساتھ ہی ملک کی قیادت کے خواہشمند افراد کے نام سامنے آنے لگے۔ ان میں پارلیمان کے سابق اسپیکر علی لاریجانی سے لے کر جرنیلوں اور سیاستدانوں سمیت دیگر شامل ہیں۔

تاہم ایسا لگتا ہے کہ ملک کے کچھ انتہا پسند سیاسی گروپ ان ناموں سے مطمئن نہیں ہیں، بلکہ انہیں نااہل اور ضروری اہلیت سے عاری سمجھتے ہوئے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجبتی کی نامزدگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ایران آبزرویٹری ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق خود کو "اسلامی جمہوریہ ایران کے مجاھدین" کہنے والے گروپ کے سیکرٹری جنرل وہاب عزیزی نے سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کے نام ایک کھلے خط میں اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل کریں اور ان کا نام اس صدارتی الیکشن کی دوڑ میں شامل کرنے کی اجازت دیں۔

خامنہ ای کے بیٹے، مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ واحد حقانیان
خامنہ ای کے بیٹے، مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ واحد حقانیان

’مجتبیٰ کے سوا کوئی قابل امیدوار نہیں‘

بنیاد پرست سیاسی کارکن عزیزی کا خیال ہے کہ "موجودہ امیدواروں میں کوئی قابل امیدوار نہیں ہے۔اس لیے کوئی بھی امیدوار عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکتا اور کوئی بھی ابراہیم رئیسی کی طرح نہیں ہوسکتا‘‘۔

انہوں نے کہاکہ "آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کے علاوہ کوئی بھی ملک چلانے کی علم برداری اور ابراہیم رئیسی کی حقیقی جانشینی کا مستحق نہیں۔ موجودہ حالات میں مجتبیٰ خامنہ ای سے بھی بہترکوئی امیدوار نہیں دکھتا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں یقین ہے کہ مجتبیٰ کی شرکت انتخابات کو پرجوش اور انقلاب کی تاریخ میں منفرد بنائے گی"۔

عزیزی نے مجتبیٰ کے نام کا ذکر کرتے ہوئے جان بوجھ کر "آیت اللہ" کی صفت استعمال کیا ہے جو کہ ایک ایسی صفت ہے جو ایسے شخص کو دی جاتی ہے جو شیعہ عقیدہ میں اجتہاد کے درجے پر پہنچ چکا ہو اور ولایت فقیہ کے عہدے پر فائز ہونے کے لیے اس کی اہلیت کی نشاندہی کرتا ہو۔ ساتھ ہی وہ ایران کا سپریم لیڈر بن سکتا ہو۔

مجتبیٰ مرشد اعلی خامنہ ای کے پیچھے کھڑا
مجتبیٰ مرشد اعلی خامنہ ای کے پیچھے کھڑا

اپنے والد کی جانشینی کا امیدوار

گذشتہ مارچ میں "ایران کی ماہرین کی کونسل" کے لیے نئے اراکین کے انتخاب کے بعد جو عام طور پر حکومت کے سپریم لیڈر کا انتخاب کرتی ہے، بہت سے لوگوں کو توقع تھی کہ یہ کونسل اپنی آٹھ سالہ مدت کے دوران ایک نئےسپریم لیڈر کا انتخاب کرے گی جو موجودہ سپریم لیڈر85 سالہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی جگہ لے گا۔

دریں اثنا، ملک کے پاور بروکرز اس بات کو یقینی بنانے کے خواہاں ہیں کہ ماہرین کی یہ کونسل اعتدال پسندوں یا اصلاح پسندوں کے بجائے انتہا پسند علماء پر مشتمل ہو،تاکہ ایرانی رجیم کی انتہا پسندانہ سوچ کو ملک میں رائج رکھا جا سکے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کا نام اس عہدے کے امیدوار کے طور پر پہلے بھی بارہا آیا تھا۔

انہوں نے سپریم لیڈر کی جانشینی کے لیے امیدواروں کی فہرست میں بھی دوبارہ شمولیت اختیار کی۔ گذشتہ 19 مئی کو ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت کے بعد ملک میں اعلیٰ ترین حکومتی عہدے کے لیے حریفوں کا حلقہ تنگ ہوتا گیا ہے اور مجتبیٰ کی جانشینی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں