سابق ایرانی صدر احمدی نژاد صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل

گارڈین کونسل یا شوریٰ نگہبان نے سن 2017 کے انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران میں رواں ماہ کی 28 تاریخ کو صدارتی انتخابات کا انعقاد ہو رہا ہے۔ ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق سابق صدر محمود احمدی نژاد نے ان انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کر دیا ہے۔ گذشتہ ماہ ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں صدر ابراہیم رئیسی کی موت کے بعد ایران میں ان انتخابات کا اعلان کیا گیا ہے۔

تاہم اسے انتخابی دوڑ میں شامل ہونے سے انہیں روکا بھی جا سکتا ہے۔ علماء و فقہاء کے زیرِ قیادت ملک کی شوریٰ نگہبان (گارڈیئن کونسل) امیدواروں کی جانچ پڑتال کرے گی، جس کے بعد 11 جون کو اہل امیدواروں کی فہرست شائع ہو گی۔

احمدی نژاد ایران کے پاسداران انقلاب کے سابق رکن بھی ہیں۔ وہ پہلی مرتبہ سن 2005 میں ایران کے صدر کے طور پر منتخب ہوئے تھے اور سن 2013 میں مدت ختم ہونے پر اس عہدے سے دستبردار ہوئے تھے۔

احمدی نژاد تہران کے مئیر کے طور پر سیاسی منظر نامے میں پر ابھرے۔ ان کا تعلق پاسدران انقلاب کور سے بھی رہا ہے۔ بعد ازاں وہ 2005 میں ایرانی صدر منتخب ہو گئے۔ انہیں گارڈین کونسل یا شوریٰ نگہبان نے سن 2017 کے انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔ اس سے ایک سال قبل سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے انہیں متنبہ کیا تھا کہ ان کا انتخاب ان کے اور ملک کے مفاد میں بہتر نہیں ہے۔

احمدی نژاد نے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ’’حتمی اختیارات‘‘ پر بھی ’’چیک اینڈ بیلنس رکھنے‘‘ کی وکالت کی تھی۔ اس کے بعد سے دونوں فریقین کے مابین اختلافات کی، جو دراڑ پڑی، وہ آج تک برقرار ہے۔

سن 2018 میں علی خامنہ ای پر غیر معمولی تنقید کرتے ہوئے احمدی نژاد نے انہیں ایک خط لکھا تھا، جس میں ''آزادانہ انتخابات‘‘ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

سن 2009 کے انتخابات میں تاہم حالات کچھ مختلف تھے۔ ان کے منتخب ہونے کے بعد ملک میں، جو مظاہرے پھوٹ پڑے تھے، ان کے دوران احمدی نژاد کو خامنہ ای کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ ان مظاہروں میں درجنوں لوگ ہلاک ہوئے تھے اور سینکڑوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

گیارہ جون تک سب صدارتی امیدواروں کی فہرست سامنے پر ہی اندازہ ہو گا کہ پاسداران انقلاب اور علی خامنہ ای کی حمایت ملنے کا امکان ان کے لیے باقی ہے یا اب بالکل باقی نہیں رہا۔خیال رہے احمدی نژاد صدارت سے فراغت کے بعد گوشہ نشینی میں ہی رہے ہیں۔

اگرچہ ایران میں 85 سالہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ریاست کے تمام معاملات پر حتمی رائے رکھتے ہیں لیکن ماضی میں ملکی صدور، اسلامی جمہوریہ ایران کے مغرب کے ساتھ روابط میں بہتری یا پھر تناؤ میں اضافے کی وجہ بنتے رہے ہیں۔

بتایا جاتا یے کہ ان کے کاغذات نامزدگی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی وجہ سے مسترد کیے گئے تھے۔ تاہم اب کی بار وہ پھر صدارتی انتخاب لڑنے کے لیے امیدوار بننے کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔ لیکن نہیں اندازہ کہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ساتھ ان کی قربت کی سطح میں بہتری آئی ہے یا ابھی نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں