مظاہرین کو پھانسی کا مطالبہ کر چکیں، ایران کی پہلی خاتون صدارتی امیدوار کون؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

گزشتہ ماہ ہیلی کاپٹر کے حادثے میں سابق صدر ابراہیم رئیسی کی ہلاکت کے بعد ایران میں نئے الیکشن 28 جون کو ہو رہے ہیں۔ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ آج پیر کو ختم ہو رہی ہے۔ اس حوالے سے اہم بات یہ سامنے آئی ہے کہ انتخابی امیدواروں میں ایک خاتون کو نامزد کیا گیا ہے۔ یہ خاتون زھرہ اللھیان ہیں۔

انتہا پسند رکن پارلیمنٹ زہرہ نے دو روز قبل اپنی امیدواری کی درخواست جمع کرائی اور ملک کی پہلی خاتون صدارتی امیدوار بن گئیں۔ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی کٹر حامی کے طور پر وہ ممکنہ طور پر ایران کی پہلی خاتون صدر بن سکتی ہیں اگر انہیں گارڈین کونسل سے منظوری مل جاتی ہے۔ گارڈین کونسل کو تمام ممکنہ امیدواروں کی جانچ کرنا ہوتی ہے۔

زھرہ اللھیان کون ہے؟

زھرہ ایک ڈاکٹر اور پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کی سابق رکن ہیں۔ وہ دو مرتبہ رکن پارلیمنٹ رہ چکی ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے ملک میں دو سال قبل نوجوان خاتون مہسا امینی کی اخلاقی پولیس کی قید میں موت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران مظاہرین کو پھانسی دینے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

ٹیلی گراف کے مطابق وہ 227 قانون سازوں میں سے ایک تھیں جنہوں نے 2022 کی بغاوت کے تناظر میں مظاہرین کو پھانسی دینے کا مطالبہ کرنے والے ایک خط پر دستخط کیے۔ اس وقت وہ پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کی رکن کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔

ایرانی رکن پارلیمان زھرہ اللھیان
ایرانی رکن پارلیمان زھرہ اللھیان

کینیڈا نے اس وقت "خواتین، زندگی اور آزادی" کی تحریک میں حصہ لینے والے مظاہرین کے لیے سزائے موت کی حمایت کرنے پر زھرہ پر بھی پابندیاں عائد کی تھیں۔ کینیڈا کی وزیر خارجہ میلانی جولی نے گزشتہ مارچ میں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر زھرہ کے خلاف پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے اور تہران میٹرو سسٹم کے سی ای او مسعود دورستی نے ایران میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف جابرانہ اقدامات کے نفاذ کے لیے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کیا۔

عورتوں کی مخالف خاتون

زھرہ کے سابق عہدوں کی وجہ سے کچھ ایرانی خواتین انہیں بدتمیز اور ان عورتوں کے مخالف کے طور پر دیکھتی ہیں جو ملک میں عائد لباس اور دیگر پابندیوں سے آزادی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

ایرانی رکن پارلیمان زھرہ اللھیان
ایرانی رکن پارلیمان زھرہ اللھیان

واضح رہے ایرانی قوانین کے تحت خواتین کو صدر کے عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں ہے تاہم ان کی امیدواری کی قسمت کا انحصار گارڈین کونسل کے فیصلے اور تشریح پر ہے جو چند روز میں جاری کر دیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن نے گزشتہ ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ اب تک 17 امیدواروں نے ملک کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اندراج کرایا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں