بغداد: انگلی کے مجسمے نے طوفان برپا کردیا، تنقید اور تضحیک کی زد میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بغداد میں انگلی کا ایک مجسمہ لگایا گیا ہے جس نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کردیا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین اس مجسمے اور اس کو لگانے والوں کو شدید تنقید اور تضحیک کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اگرچہ یہ مجسمہ کچھ عرصہ قبل نصب کیا گیا تھا لیکن گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران بہت سے عراقیوں نے ایکس اور انسٹا گرام جیسی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اس یادگار کی تصاویر پھیلائی ہیں اور اسے "ہارٹ آف دی ورلڈ" ہوٹل کے سامنے ایک عجیب انگوٹھا قرار دیا ہے۔ یہ انگوٹھا بغداد میں الجادریہ کے علاقے میں نصب کیا گیا ہے۔ کچھ لوگوں نے انگوٹھے کے مجسمے کی تعمیر پر تنقید کی اور کہا کہ اس کا کوئی فنکارانہ یا ثقافتی معنی نہیں ہے۔ دوسروں نے مذاق کی ایک مہم شروع کردی اور کہا کہ ایسے مجسمے کو اس جگہ نصب کرنے کی وجہ کیا ہے۔

انگوٹھے کا مجسمہ
انگوٹھے کا مجسمہ
Advertisement

سرمایہ کار کا فنگر پرنٹ

عراقی پلیٹ فارم "یلا" نے انسٹاگرام پر اطلاع دی کہ یہ یادگار عراقی سرمایہ کار اور تاجر عبداللہ الجبوری کے فنگر پرنٹ کی نمائندگی کر رہی ہے۔ الجبوری واضح کرنا چاہتا ہے کہ اس نے اس بڑے ہوٹل میں اپنی سرمایہ کاری کے ذریعے عراق میں ایک نشان چھوڑا ہے۔ واضح رہے گزشتہ برس شروع کیا گیا یہ ہوٹل الجادریہ پل پر واقع ہے اور اس سے دریائے دجلہ کا نظارہ ہوتا ہے۔ اس میں ایک تجارتی مرکز اور لگژری ہوٹل اپارٹمنٹس کے ساتھ ساتھ بہت سے لگژری ریستورنٹس اور سوئمنگ پولز بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں