جوبائیڈن روڈ میپ، یرغمالیوں کی رہائی شامل ہے غزہ کی تباہی روکنا شامل نہیں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر جوبائیڈن کی غزہ میں جنگ بندی کے لیے دیے گئے روڈ میپ پر عمل کے لیے عالمی اور علاقائی سطح سے اسرائیل پر مسلسل دباؤ آرہا ہے اور فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس بھی اس بارے میں مثبت انداز کا اظہار کر چکی ہے تو اسرائیل کے بعض انتہا پسندوں نے بہتری کی ان کوششوں پر اعتراضات کرنا شروع کر دیے ہیں۔

یہ انتہا پسند نیتن یاہو نے یہ یقین دلانا شروع کر رکھا ہے کہ جوبائیڈن فارمولے کا مقصٖد یرغمالیوں کی رہائی تو ہے مگر اس کا مقصد جنگ بندی یا حماس کی تباہی سے پیچھے ہٹنا ہرگز نہیں ہے۔ '

اسرائیلی مخلوط حکومت میں موجود غیر معمولی انتہا پسند عناصر جن میں ایتمار بین گویر نمایاں ہیں یہ باور کرایا ہے کہ جوبائیڈن کے دیےگئے روڈ میپ نے غزہ میں تباہی روکنا شامل نہیں ہے ۔

اسرائیل کے باخبر ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ نیتن یاہو نے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بین گویر کو بلایا ہے تاکہ انہیں بتا سکے کہ جوبائیڈن کے اعلان کردہ فارمولے میں کیا شامل ہے ۔

فوج کا اتفاق

فوج نے بھی اس امر سے اتفاق کیا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل ہوسکتی ہے۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ فوج معاہدے کے وسیع البنیاد خاکے کی بھی حمایت کرتی ہے ۔

اسرائیلی ٹی وی چینل 14 نے بھی بتایا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے والے میجر جنرل نیتزان ایلون نے بھی یہی بات بتائی ہے کہ معاہدے کو قبول کرلیا جائے ۔

استعفے کی دھمکی

گزشتہ روز بین گویر کی طرف سے حکومت کو ختم کرنے اور الگ ہونے کی دھمکی دی تھی کہ اگر حکومت نے جو بائیڈن فارمولے کے تینوں مراحل کو قبول کرلیا تو حکومت نہیں رہے گی کیوں کہ جو بائیڈن فارمولے کے مطابق بالآخر جنگ بندی ہے جو حماس کی مکمل کی تباہی کے بغیر مکمل فتح کے مترادف نہیں بلکہ مکمل شکست ہے۔

یہ بات قابل غور ہے کہ جو بائیڈن نے چند روز قبل یہ اعلان کیا تھا کہ اسرائیل نے ایک جامع تجویز پیش کی ہے جو تین مرحلوں پر مبنی روڈ میپ پر مشتمل ہے اس میں مستقل جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی بھی شامل ہے۔

پہلے مرحلے میں ضروری ہوگا کہ 33 اسرائیلی قیدیوں کو خواتین اور زخمیوں سمیت رہا کردیا جائے اس کے بدلے سینکڑوں فلسطینی قیدی رہا کیے جائیں گے۔ جبکہ دوسرے مرحلے میں اسرائیل کے تمام قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہوگی جس میں فوجی بھی شامل ہونگے اس کے بدلے میں بے گھر فلسطینیوں اور نقل مکانی کر چکے فلسطینیوں کو اپنے گھروں اور علاقوں میں آنے کی اجازت ہوگی اس کے ساتھ ہی ساتھ ان علاقوں سے اسرائیلی فوج نکالی جائےگی۔

اس طرح تیسرے مرحلے میں جنگ بندی مکمل رکے گی اور اسرائیلی فوج کا پورے غزہ سے انخلاء مکمل کردیا جائے گا۔اسی تیسرے مرحلے میں غزہ کی تعمیر نو کے سلسلے میں بات چیت اور پیش رفت شامل ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں