حماس کے یرغمالیوں میں شامل سمجھا جانے والا ایک اسرائیلی غزہ کے قریب مردہ پایا گیا

ڈولیو یہود کی باقیات کی شناخت کی تصدیق کر دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی میڈیا نے پیر کو بتایا کہ ایک اسرائیلی جو سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے دوران لاپتہ ہو گیا اور قیاس تھا کہ اسے یرغمال بنا لیا گیا تھا، سرحدی گاؤں میں مردہ پایا گیا ہے جہاں اس کی رہائش تھی۔

طویل فرانزک کے بعد اسرائیل کی فوج نے ڈولیو یہود کی باقیات کی شناخت کرنے کی تصدیق کر دی۔

ایک فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ 35 سالہ رضاکار طبی کارکن یہود سات اکتوبر کے حملے میں کیبتز نیر اوز کے درجنوں ہلاک شدہ رہائشیوں میں شامل تھا جس کے دوران کئی گھر جل کر خاکستر ہو گئے تھے۔

حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی پٹی میں درجنوں دیگر رہائشیوں کو قید کر لیا گیا تھا۔ خاندان نے بتایا کہ ان میں یہود کی 28 سالہ بہن اربیل بھی تھی۔

حملے کے نو دن بعد یہود کی بیوی کے ہاں چوتھا بچہ پیدا ہوا۔

سات اکتوبر کے یرغمالیوں میں غیر ملکی سیاحوں اور مزدوروں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی بھی شامل تھے جن میں سے کئی نومبر کے آخر میں غزہ جنگ بندی کے تحت رہا کر دیئے گئے تھے۔

یہود کے اعلان کے بعد اسرائیلی حکومت نے کہا کہ سات اکتوبر کے 120 یرغمالیوں کے بارے میں خیال ہے کہ وہ بدستور غزہ میں موجود ہیں۔ ان میں سے 39 کو اسرائیل نے گواہان کی شہادتوں، فرانزک اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر غیر حاضری میں مردہ قرار دے دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں