غزہ کے لیے سعودی عرب کا 51 واں امدادی طیارہ مصر پہنچ گیا

688 ملین ریال سے زائد مالیت کے عطیات پروگرام "ساھم" کے ذریعے فلسطین کو دئیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب فلسطینی عوام کے لیے اپنی امدادی امداد کو تیز کرنے کی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ کنگ سلمان سنٹر فار ریلیف اینڈ ہیومینٹیرین ایکشن کے زیر انتظام سعودی عرب کا 51 واں امدادی طیارہ مصر کے العریش ایئرپورٹ پر پہنچ گیا۔ سعودی عرب کی طرف سے بھجوائے گئے خوراک کے پیکجز العریش سے غزہ تک پہنچائے جائیں گے۔

یہ امداد مختلف بحرانوں اور مصیبتوں میں گھرے برادر فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کے سعودی عرب کے معمول کردار کے فریم ورک کے تحت آتی ہے۔ فلسطین ان ملکوں میں سے ایک ہے جو سعودی امدادی پلیٹ فارم کے ذریعے سب سے زیادہ امداد وصول کرتے ہیں۔ فلسطین کے لیے سعودی عرب کی امداد کی مالیت تقریباً 5 ارب سعودی ریال تک پہنچ گئی ہے۔

یہ امدادی طیارہ غزہ پہنچنے والی اس امداد کی توسیع ہے جس کے لیے کنگ سلمان سینٹر فار ریلیف اینڈ ہیومینٹیرین ایڈ کے جنرل سپروائزر ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے ورلڈ فوڈ پروگرام کے ساتھ مشترکہ تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ غزہ کی پٹی میں مستحقین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیار شدہ اشیائے خوردونوش تقسیم کی جائیں گی۔ تقریباً تین لاکھ 77 ہزار 855 بے گھر فلسطینی اس خوراک سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

غزہ کی پٹی میں انسانی بحران کے آغاز کے بعد سےسعودی عرب نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے "ساھم" پلیٹ فارم کے ذریعے مہم چلائٍ ہے۔ اس پلیٹ فارم پر اب تک 18 لاکھ 73 ہزار 731 ملین دہندگان نے 688 ملین 800 ہزار 273 ریال جمع کئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں