نیتن یاہو نے غزہ معاہدہ قبول کیا تو حکومت سے نکل جائیں گے: بن گویر کی پھر دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان کی جانب سے اسرائیل اور حماس تحریک کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے متعلق مثبت اشارے کی بات سامنے آنے کے بعد اسرائیل کے وزیر بن گویر نے ایک مرتبہ پھر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاھو کو دھمکی دی ہے۔ بن گویر نے کہا کہ نیتن یاہو نے غزہ معاہدہ قبول کیا تو وہ اڑ جائیں گے یعنی حکومت سے نکل جائیں گے۔ انہوں نے ’’ایکس‘‘پر کہا کہ کہ اگر یاہو کسی معاہدے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے تو ہم حکومت کو تحلیل کر دیں گے۔

انہوں نے قیدیوں کے تبادلے کے مجوزہ امرییکی معاہدے کو غیر ذمہ دارانہ اور حماس کی تباہی کے مقصد کو چھوڑ دینے والا قرار دیا۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب کربی نے اے بی سی نیوز کو انٹرویو کے دوران کہا کہ واشنگٹن توقع کرتا ہے کہ اگر حماس نے مجوزہ تجویز پر اتفاق کرلیا تو اسرائیل بھی بائیڈن کی تجویز پر رضامند ہو جائے گا۔ ایک اسرائیلی اہلکار نے امریکی سی بی ایس نیٹ ورک کو تصدیق کی کہ نیتن یاہو اور جنگی کابینہ نے اس تجویز کی منظوری دے دی ہے۔ ادھر فلسطینی تحریک حمسا نے پہلے اشارہ کیا تھا کہ بائیڈن کے بیانات اور غزہ کی پٹی کے حوالے سے جنگ بندی کی تجویز مثبت تھی۔

نیتن یاہو کے سیاسی مشیر اوفیر فالک نے اتوار کو کہا کہ یہ منصوبہ مثالی نہیں ہے۔ کچھ غیر واضح نکات پر بحث کی ضرورت ہے۔ غزہ کی پٹی میں یرغمال بنائے گئے یرغمالیوں کو بازیاب کرانا ناکافی ہوگا۔ تاہم اسرائیل اس کو تسلیم کرسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں