نیتن یاہو کے ترجمان نے جوبائیڈن فارمولے کو جزوی اور جانبدارانہ معاہدہ قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی حکومت کے ترجمان نے کہا 'وزیر اعظم نیتن یاہو صدر جوبائیڈن کے جنگ بندی کے لیے پیش کردہ روڈ میپ کو یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے جزوی معاہدے کے طور پر دیکھتے ہیں۔'

خیال رہے جوبائیڈن نے یہ روڈ میپ جمعہ کے روز پیش کیا تھا کہ تین مراحل میں جنگ بندی معاہدے کو حتمی شکل دی جائے۔ جنگ روکی جائے، یرغمالی رہا کیے جائیں اور غزہ کی تعمیر نو اس طرح کی جائے کہ حماس کی حکومت باقی نہ رہے۔

اسرائیلی حکومت کے ترجمان ڈیوڈ مینسر نے کہا 'وزیر اعظم نیتن یاہو اس معاہدے کے لیے خاکے کو جزوی قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ ہم جنگ کو یرغمالیوں کی رہائی کے لیے روکیں گے۔ اس کے بعد ہم دیکھیں گے کہ حماس کے خاتمے کا ہدف کیسے پورا ہو سکتا ہے۔'

واضح رہے اسرائیل کے حکمران اتحاد کے رکن نے پیر کے روز جاری کردہ الگ بیان میں کہا ہے 'ہمارا ایسی جنگ بندی پر اتفاق کرنا اپنی شرائط منوائے بغیر غلط ہوگا۔' نیتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادی بین گویر نے پیر کے روز یہ بھی کہا ' یہ منصوبہ بہت ہی غیر ذمہ دارانہ ہے۔' یہ ایسا ہی ہے کہ جنگ ختم ہو جائے مگر حماس کا خاتمہ نہ ہو۔ جبکہ کابینہ نے واضح طور پر جنگ کا ہدف حماس کی تباہی کو طے کر رکھا ہے۔'

انہوں نے دھمکی دی ایسی صورت میں روڈ میپ مانا گیا اور نیتن یاہو نے کوئی غیر ذمہ دارانہ معاہدہ کر لیا تو ہماری جماعت حکومت کو توڑ دے گی۔'

دوسری جانب حزب اختلاف کے رہنما یائرلیپڈ نے کہا ہے کہ 'حکومت بائیڈن کی اہم تقریر کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ اگر نیتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادی ساتھی دستبردار ہو جائیں تو ہم ان کی حمایت کریں گے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں