ہمیں ایسی جنگوں کی ضرورت نہیں جن میں ہمارا خون بہایا جائے:فلسطینی ایوان صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی جانب سے حماس کی طرف سے 7 اکتوبر کو کیے گئے حملے کی تعریف کرنے پر فلسطینی ایوان صدر نے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

آج سوموار کو ایک بیان میں فلسطینی ایوان صدر نے زور دے کر کہا کہ غزہ کی جنگ کے بارے میں خامنہ ای کے بیانات کا مقصد فلسطینیوں کے خون کی قربانی دینا ہے۔ یہ جنگ ایک آزاد فلسطینی ریاست جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو کے قیام کا باعث نہیں بنے گی۔

ہمیں جنگوں کی ضرورت نہیں

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فلسطینی عوام 100 سال سے لڑ رہے ہیں اور جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہیں ایسی جنگوں کی ضرورت نہیں ہے جو ان کی آزادی کی خواہشات کو پورا نہ کریں۔

ایوان صدر نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر نے جو کہا وہ ہزاروں بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کی جانوں کی قربانی اور فلسطینی سرزمین کی تباہی کا باعث بنے گا۔

خامنہ ای نے خمینی کی وفات کی 35ویں برسی کے موقع پرسوموارکے روز تہران میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ خطے کو 7 اکتوبر کو حملے کی ضرورت تھی۔ ان کے بقول یہ حملہ خطے کے لیے صحیح وقت پر کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ "فلسطینیوں نے اسرائیلی دشمن کا مقابلہ کیا اور اسے ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا۔ تاکہ وہ بچ نہ پائے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’غزہ کی پٹی پر تباہ کن اور جاری جنگ نے مسئلہ فلسطین کو دنیا میں اولین حل طلب مسئلہ بنا دیا ‘‘۔

ادھر غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کی جانب سے آج سوموار کو جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سات اکتوبر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 36,479 ہو گئی ہے، جب کہ 82,777 ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں