یمن: امریکہ اور برطانیہ کے حملوں میں ہلاک حوثی جنگجوئوں کی تدفین

ہلاکتوں کی تعداد 16، حوثیوں کا جوابی حملوں کے عزم کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے پیر کے روز دارالحکومت صنعاء میں امریکی اور برطانوی حملوں میں مارے گئے ایک درجن سے زائد جنگجوئوں کی تدفین کی۔

ملیشیا نے جمعے تک راتوں رات ہونے والے حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 16 بتائی تھی۔ جب سے امریکہ اور برطانیہ نے جنوری میں بحیرۂ احمر اور خلیج عدن میں بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملے روکنے کے لیے فوجی مہم شروع کی ہے، حوثی ہلاکتوں کی یہ تعداد سب سے زیادہ اور مہلک ترین ہے۔

یمن کے زیادہ تر حصے پر قابض حوثی نومبر سے بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کی مصروف گذرگاہ پر جہازوں کو ہراساں کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ کارروائی غزہ جنگ کے دوران فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ہے۔

صنعا میں اے ایف پی کے ایک نامہ نگار نے بتایا کہ پیر کے روز ایک درجن سے زائد مزاحمت کاروں کو سپردِ خاک کر دیا گیا جن میں حوثی بحری فوج کے نو ارکان بھی شامل تھے۔

جب نیلے رسمی لباس میں ملبوس حوثی مزاحمت کاروں نے فوجی پریڈ کا انعقاد کیا تو سینکڑوں لوگ دارالحکومت کی الشعب مسجد کے باہر جمع ہوگئے جہاں سوگواروں نے تابوت اور ہلاک شدگان کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔

ہلاک شدہ مزاحمت کاروں میں سے ایک کے رشتہ دار احمد عبدالطیف نے کہا، "میرا پیغام امریکہ اور اسرائیل اور ان سے تعاون کرنے والوں کے لیے ہے، یہ کہ جو آپ نے غزہ اور یمن میں کیا ہے، ہم نہیں بھولیں گے۔‘‘

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا، "ہم نہیں بھولیں گے کہ آپ نے کتنی خواتین اور بچوں کو قتل کیا ہے۔"

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ جمعے کے حملوں میں حوثیوں کی 13 تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

برطانوی وزارتِ دفاع نے کہا کہ "جن عمارات کی شناخت ڈرون گراؤنڈ کنٹرول کی سہولیات کے طور پر ہوئی اور وہاں بہت طویل فاصلے کے ڈرونز کے ساتھ ساتھ سطح سے ہوا میں مار کرنے والے ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے کی سہولت" تھی، انہیں حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔

جوابی کارروائیوں سے مزاحمت کاروں کی مہم رکی نہیں ہے جنہوں نے امریکی اور برطانوی جہازوں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی بندرگاہوں کی طرف جانے والے تمام بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا عزم کیا ہے۔

تازہ ترین مہلک حملوں کے جواب میں جمعہ کو حوثیوں نے بحیرۂ احمر کی جہاز رانی پر اپنے حملے تیز کرنے کی دھمکی دی تھی۔

حوثیوں کے زیرِ قبضہ حدیدہ کے نائب گورنر احمد البشری نے جنازے کے موقع پر اے ایف پی کو بتایا، "ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔"

نیز انہوں نے کہا، "ہم امریکیوں سے کہتے ہیں: نہ صرف ہم جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں بلکہ یہ بھی کہ جواب آنے والا ہے۔"

حوثیوں کے حملوں نے تجارتی جہازوں کو بحیرۂ احمر میں ان کے مخصوص راستے سے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے جو عموماً عالمی تجارتی سامان کا تقریباً 12 فیصد لے جاتا ہے۔

فروری میں حوثیوں نے 17 مزاحمت کاروں کی اجتماعی تدفین کی تھی جو ان کے مطابق امریکی اور برطانوی حملوں میں مارے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں