'اونروا' کو دہشت گرد قرار دینے کی اسرائیلی تجویز کی دنیا بھر میں مذمت جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

قطر اور سعودی عرب نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین 'اونروا' کو دہشت گرد قرار دینے کے بل کی سخت مذمت کی ہے۔ اس اسرائیلی بل کے خلاف دنیا بھر سے مخالفت سامنے آرہی اور آزاد اقوام اس کی مذمت کرہی ہیں۔

طاقتوروں سے ہٹ کر سوچنے والے یا ایجنڈا رکھنے والوں کو بھی دہشت گرد قرار دینے کی روش بعض ملکوں میں اسی طرح قوت پکڑ رہی ہے، جس طرح بعض پسماندہ اور جمہوری و انسانی حقوق کے حوالے سے کمزور سمجھے جانے والے ملک اپنے ہاں کے سیاسی مخالفین پر بھی انسداد دہشت گردی کی دفعہ آسانی سے لگا دیتے ہیں اور اپنے ہاں بنائے گئے ان قوانین کا غلط استعمال کرتے ہیں۔

اسرائیلی پارلیمنٹ نے بھی بعض طاقتوں کے ہاں پختہ ہو چکی اسی روش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے پر قدغنیں لگانے کی کوشش کی ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ نے گزشتہ ہفتے اس بل کو منظور کیا ہے۔ اسرائیل نے 'اونروا' پر الزام لگایا ہے کہ اس کے دہشت گروپوں کے ساتھ تعلقات ہیں۔ نیز اس کے سینکڑوں کارکن ان گروپوں کے رکن ہیں۔

خیال رہے یہ مسئلہ ماہ جنوری سے شروع ہوا تھا۔ جب اچانک اسرائیل نے الزام لگایا کہ غزہ میں کام کرنے والے 'اونروا' کے 12 کارکنوں نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے میں حماس کا ساتھ دیا تھا۔' غزہ میں 'اونروا' کے 13 ہزار کارکن کام کرتے ہیں۔ ان کا کام فلسطینی بے گھر اور پناہ گزین شہریوں کو انسانی بنیادوں پر کثیر جہتی امداد فراہم کرنا ہے۔

اسرائیل نے ماہ جنوری میں اس کے 13000 کارکنوں میں سے 12 کارکنوں پر الزام لگایا تھا۔ لیکن چونکہ امریکہ نے دیگر معاملات کی طرح اس معاملے میں بھی اسرائیل کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فوری طور پر 'اونروا' کی فنڈنگ کو معطل کر دیا تو اسرائیل نے 'اونروا ' کے خلاف کچھ مزید کچھ جارحانہ پن اختیار کرنے کا منصوبہ بن لیا۔

'اونروا' ہی نہیں غزہ میں اسرائیلی فوج اقوام متحدہ کے دوسرےاداروں کے بارے میں یہی رویہ ہے۔ کئی اداروں کے سربراہان کو اسرائیل کے علاوہ غزہ میں داخلے کی اججازت نہیں دی جاتی۔ کئی کو ویزا جاری نہیں کیا جاتا ۔ لیکن 'اونروا ' کے خلاف جارحیت سب سے زیادہ ہے۔

اگرچہ 13 ہزار میں سے جن 12 کارکنوں کو سات اکتوبر کے حملے میں ملوث ہونے کا الزام دے کر امریکہ و یورپ کے کئی ملکوں بشمول آسٹریلیا اور کینیڈا سے بھی فنڈنگ رکوا دی تھی مگر ان کارکنوں کے خلاف انکوائری میں کوئی خاص ثبوت اسرائیل پیش نہ کر سکا۔ یہ بات وزیر خارجہ فرانس کے ذریعے کرائی گئی تحقیقات میں سامنے آئی۔

اس کے باوجود اسرائیل اور اس کی پارلیمنٹ نے اس کے خلاف بل منظور کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے اس انسانی بنیادوں پر کام کرنے والے ادارے کو دہشت گرد قرار دیا جائے۔ دلچسپ ڈھٹائی ہے کہ جب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے جنگی جرائم میں ملوث ہونے کی بات بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کی طرف سے آئی ہے تو اسرائیل نے توجہ دوسری جانب کرنے کی کوشش کی۔ تاہم اسرائیل کی پارلیمنٹ کو بھی نیتن یاہو نے مذمت میں شریک کر لیا ہے۔

قطر کی وزارت خارجہ نے اسرائیل میں بل کی منظوری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ' یہ اسرائیلی منظم مہم کی توسیع ہے۔ جس کا مقصد اقوام متحدہ کے ادارے کو ایسے وقت میں کالعدم کرانا ہے جب غزہ کے بے گھر اور قحط کی زد میں آئے فلسطینیوں کو اس کی خدمات کی زیادہ ضرورت ہے۔ '

یورپی یونین کے ارکان، جن میں بڑی تعداد 'اونروا' کے ڈونرز کی ہے ، انہوں نے بھی اسرائیلی پارلیمنٹ میں اس بل کی منظوری کی مذمت کی ہے۔ یورپی یونین کے بیلجئیم نے بھی اسرائیل کی طرف سے اس بل کی منظوری دیےجانے کی مذمت کی ہے۔

دوسری جانب 'اونروا' نے اسرائیل کی طرف سے لگائے گئے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ 'یہ ادارہ اقوام متحدہ کے غیر جانبداری کے معیارات پر کاربند ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں