اسرائیل کے جاپانی ایلچی کو ناگاساکی امن تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جاپان میں اسرائیلی سفیر کو ناگاساکی کی سالانہ امن تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا۔ شہر کے عہدیداروں نے بتایا ہے کہ سفیر کو دعوت دینے کے بجائے سفارت خانے کو بھیجے ایک خط میں غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا۔ جنوبی جاپان کے شہر نے اس ہفتے درجنوں ملکوں اور خطوں کو 1945 میں امریکی جوہری حملے کی برسی کے موقع پر نو اگست کی تقریب میں مدعو کیا ہے۔ امریکہ کی اس ایٹمی جارحیت میں 74 ہزار افراد موت کے مُنہ میں چلے گئے تھے۔

ناگاساکی کے میئر شیرو سوزوکی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے، صورتحال دن بہ دن بدل رہی ہے، اس لیے ہم نے دعوت نامہ بھیجنے کو روک دیا۔" یاد رہے اسرائیل نے تقریباً آٹھ ماہ قبل غزہ میں فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کی جانب سے ملک پر حملے کے بعد فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

میئر سوزوکی نے کہا کہ اس فیصلے کے پیچھے یہ خدشات ہیں کہ اسرائیل کے خلاف مظاہروں سے ایٹم بم کے متاثرین کی یادگار کو متاثر کیا جا سکتا ہے۔ غزہ کی نازک انسانی صورتحال اور عالمی برادری میں رائے عامہ کے پیش نظر تقریب کے دوران غیر متوقع واقعات کے خطرات موجود ہیں۔ تقریب کو محفوظ اور ہموار ہونا چاہیے۔

میئر سوزوکی نے مزید کہا چونکہ یوکرین کی صورتحال بھی تبدیل نہیں ہوئی تو ہم روس یا بیلاروس کو بھی مدعو نہیں کر رہے ہیں۔ سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد شروع ہونے والی اسرائیلی بربریت میں 36479 فلسطینیوں کو شہید کردیا گیا ہے۔ مرنے والے فلسطینیوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

ادھر مقامی حکام نے منگل کو اے ایف پی کو بتایا کہ فلسطینی ایلچی کو ناگاساکی میں ہونے والی تقریب میں مدعو کیا گیا ہے۔ جاپانی میڈیا نے کہا کہ فریقین کو عموماً مدعو کیا جاتا ہے۔ میئر سوزوکی نے کہا کہ دعوت نامے کی جگہ ناگاساکی نے اسرائیلی سفارت خانے کو ایک خط بھیجا ہے جس میں ہم فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر شہر کے حکام آنے والے مہینوں میں یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اسرائیل کو مدعو کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں تو ہم جلد ہی دعوت نامہ جاری کریں گے۔ اس تناظر میں اسرائیلی سفارت خانے نے فوری طور پر کوئی تبصرہ جاری نہیں کیا۔

خیال رہے ہیروشیما میں 6 اگست 1945 کو امریکہ کی طرف سے پہلا ایٹمی بم گرایا گیا۔ ایٹمی دھماکوں میں ہلاک ہونے والے ایک لاکھ 40 ہزار افراد کی یاد میں سالانہ تقریب بھی منعقد کی جاتی ہے۔ دونوں حملوں کے نتیجے میں دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا تھا۔

دوسری طرف ہیروشیما نے اس سال کی تقریب میں اسرائیل کو مدعو کیا ہے لیکن اپنے خط میں جلد سے جلد جنگ بندی اور بات چیت کے ذریعے مسئلہ کے حل کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق ہیروشیما نے کبھی کسی فلسطینی نمائندے کو اپنی تقریب میں مدعو نہیں کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں