ایران کے عراقی اتحادی مسلح گروپوں کے اسرائیل پر حملے، تشویش بڑھا رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

ایرانی حمایت یافتہ عراقی مسلح گروپوں نے حالیہ کچھ ہفتوں سے اسرائیل کے خلاف راکٹ حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ راکٹ حملوں کی اس تیزی سے امریکہ اور اسرائیل کے علاوہ عراق کے کچھ اتحادی ملکوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے کہ اگر صورتحال اسی طرح رہی تو عراق کی اسرائیل کے خلاف کارروائیاں بڑھ سکتی ہیں اور علاقے کی سطح پر کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ اگر چہ عراقی گروپوں سے اسرائیل کو حماس اور حزب اللہ کے حملوں کی طرح نقصان کا اندیشہ نہیں ہے کیوں کہ عراقی مسلح گروپ بہت طویل فاصلے سے اسرائیل کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن پھر بھی اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ ان حملوں کا انتقام لیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب یہ بھی اہم بات ہے ک وقت کے ساتھ ساتھ ان راکٹوں کی صلاحیت اور معیار میں بہتری ہو رہی ہے اس لیے امریکی اور اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق عراقی مسلح گروپ کم از کم دو جگہوں پر اپنے اہداف کو نشانہ بنانے میں کامیاب بھی رہے ہیں تاہم بہت سارے راکٹ حملوں کو امریکی اور اسرائیلی دفاعی نظام نے راستے میں ہی مار گرایا ہے۔

یہ گروہ ماہ مئی سے باقاعدہ طور پر کروز میزائل کا استعمال کرنے لگے ہیں، کروز میزائل کو دفاعی نظام کے ذریعے روکنے اور اس کو راستے میں ہی مار گرانا آسان نہیں ہے۔ اس لیے فوجی حکام یہ سمجھتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہی ہتھیاروں کی شدت اور جدت میں اضافہ ہورہا ہے۔

امریکہ میں قائم واشنگٹن انسٹیٹیوٹ فار نئیر ایسٹ پالیسی کے ایک اہم رکن مائیک نائٹس کہتے ہیں کہ عراقی کروز میزائلوں اور راکٹ حملوں کا اسرائیل کے لیے پتہ چلانا کہ یہ کہاں سے ہورہے ہیں ایک مشکل کام ہے۔ مائیک نائٹس کا کہنا ہے کہ 'عراقی گروہوں کے نئے حملے اسرائیل کے کام میں پیچیدگی پیدا کر رہے ہیں اور ان سے نپٹنا ہر طرح سے مالی اخراجات کا باعث بن سکتا ہے '

خبر رساں ادارے رائٹرز نے تقریبا ایک درجن لوگوں سے اس موضوع پر بات کی ہے تاہم ان میں سے اکثر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کی ہے ۔ ایک صاحب نے کہا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہےان کا کہنا تھا کہ کتائب، حزب اللہ اور نجابہ سمیت کئی گروہوں کے راکٹ حملے امریکہ کے لیے تشویش کا باعث بن رہے ہیں ۔ ان کے لیے لبنانی حزب اللہ کی اسرائیل کے ساتھ مسلسل جھڑپیں بھی تشویش کا باعث ہے۔

مزاحمتی محور سے وابستہ ایک سینیئر زمہ دار نے کہا کہ اگر آپ میرا نام شائع نہ کریں کہ ایران اور حزب اللہ کے زیادہ منظم ارکان ماضی میں عراقی دھڑوں کو قابو کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اسی پس منظر میں عراقی گروپ نجابہ کےترجمان حسین الموسوی نے کہا ہے کہ یہ حملے عراق سے تعلق رکھنے والے گروہوں کی صلاحیت کا فطری ارتقا ہے۔ اان کا مقصد غزہ میں جاری اسرائیلی جنگی اخراجات کو بڑھانا ہے۔ اس لیے وہ کہیں سے بھی حملہ کرکے اسرائیل کے لیے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

حسین الموسوی نے مزید کہا ہے کہ مزاحمت کے لیے وقتی اور فاصلاتی تحدیدات معنی نہیں رکھتیں بلکہ بے معنی ہوتی ہیں۔ ہم مزاحمت کرنے والے نتائج سے بے پرواہ ہو کر اپنی جدوجہد کو جاری رکھتے ہیں جب تک کہ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ ہم حق پر ہیں ۔ خیال رہے کہ عراق کی حکومت بیک وقت امریکہ اور اسرائیل دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔

عراقی حکومت نجی مسلح گروہوں یا ان ایرانی حمایت یافتہ گروہوں کی اسرائیل پر حملہ کی حمایت نہیں کرتی ۔ بعض ناقدین وزیر اعظم عراق محمد شیعہ السودانی پر تنقید کرتے ہیں کہ وہ ایک طرف ایرانی عسکری گروپوں کے حمایت یافتہ ہیں اور دوسری طرف ان گروپوں کے حملوں کی حمایت نہیں کرتے۔ ۔

مگر وہ بڑی حکمت کے ساتھ اس صورت حال میں ایک توازن برقرار رکھنے میں کامیاب ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ان مسلح گروپوں کو نہ روکنے کی وجہ طاقت نہ رکھنا ہے ، جبکہ دوسرے طبقے کا کہنا ہے اس کی وجہ ان کی خواہش کا نہ ہونا ہے۔

یاد رہے عراق اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہ رکھنے والے ملکوں میں شامل ہے اور اس نے سال 2022 میں ایک قانوں منظور کیا گیا تھا جس کے تحت ایسے افراد کو سزائے عمر قید اور سزائے موت تک دی جاسکتی ہے جو اسرائیل کے ساتھ تعلقات نارمل کرنے کی کوشش کریں گے۔

اسرائیل کے خیال میں ایرانی کشتیاں عراق کے ساتھ حزب اللہ اور دیگر مسلح گروہوں کے لیے اسلحہ لاتی ہیں اور اس بارے میں اسرائیل اور عراق دونوں کی حکومتیں تبصرہ کرنے کو تیار نہیں حتی کہ امریکی دفتر خارجہ نے بھی اس مسئلے پر بات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

بڑھتا ہوا خطرہ

عراقی مسلح گروہ عراق میں امریکی فوج کے خلاف بھی کاروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں انہی امریکی فوجیوں نے 2003 میں عراقی صدر صدام کا تختہ الٹ کر اسے پھانسی چڑھایا تھا ۔ امریکی فوجیوں پرحملہ کرنے کے سلسلے میں شام کے مسلحہ گروپوں کے ساتھ مل کر کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔ یہ حملے بغداد کے جنوب سے اسرائیل پر کیے جاتے ہیں۔ اور عراق اور شام کے سرحدی علاقوں سے کیے جاتے ہیں۔

کھلی اجازت

عراق 1991 میں اسرائیل کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ رہا ہے جب صدام نے تل ابیب اور حیفا پر حملے کیے تھے اس وقت امریکہ نے اسرائیل کو روک دیا تھا کہ جواب نہ دے ورنہ کشیدگی بڑھ جائے گی۔

لیکن اب سات اکتوبر کے بعد سے جس طرح حماس کے حامی مزاحمتی گروپ حماس سے اظہار یکجہتی کے لیے اسرائیل پر حملے کر رہے ہیں اسی طرح اسرائیل بھی آس پاس کے مسلمان ملکوں پر آزادانہ حملے کر رہا ہے اور اس پر امریکہ کی طرف سے بھی کوئی قدغن نہیں ہے ۔ 2019 میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ انہوں نے فوج کو کھلی اجازت دے دی ہے کہ وہ جس طرح چاہیں ایرانی حملوں کو روکیں اور ناکام کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں