جنگ بندی کی تجویز ہمیں لڑائی دوبارہ شروع کرنے سے نہیں روکتی: نیتن یاھو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے غزہ کے حوالے سے پیش کی گئی جنگ روکنے کی تجویز کے حوالے سے ایک اسرائیلی اہلکار نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اسرائیلی ارکان کنیسٹ کو مطلع کیا کہ غزہ میں جنگ بندی کی تجویز اپنی موجودہ شکل میں جنگ دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ اگر حماس کے ساتھ مذاکرات آخری مرحلے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو ہمارے پاس جنگ دوبارہ شروع کرنے کا آپشن موجود ہو گا۔

اہلکار نے ’وال سٹریٹ جرنل‘ کو بتایا کہ نیتن یاہو نے غیر عوامی بیانات میں قانون سازوں کو یقین دلایا کہ یہ تجویز اسرائیل کو کسی بھی وقت لڑائی دوبارہ شروع کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ جب اسے لگے گا کہ مذاکرات "بے سود" ہیں تو ہم غزہ میں جنگ دوبارہ چھیڑ دیں گے۔

وزیر اعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ مذاکرات کے بعد کے مرحلے میں حماس کے زیر حراست تمام افراد کی رہائی،حماس کی عسکری صلاحیتوں کو تباہ کرنے اور غزہ کی پٹی پر اس کی حکمرانی کے خاتمے پر اصرار کریں گے۔

تین مراحل پر مشتمل معاہدے کی تجویز

گذشتہ جمعے کو امریکی صدر جو بائیڈن نے غزہ کی پٹی میں جنگ کے خاتمے کے لیے تین مرحلوں پر مشتمل منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی صدر کے مجوزہ جنگ بندی منصوبے میں مرحلہ وار اسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلاء اور قیدیوں کے تبادلے کی تجاویزپیش کی گئیں تھیں۔

امریکی صدر بائیڈن نے گذشتہ جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ اسرائیل نے ایک نئی جامع تجویز پیش کی ہے جس میں غزہ میں مستقل جنگ بندی اور تمام قیدیوں کی رہائی کے لیے روڈ میپ شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ روڈ میپ تین مراحل پرمشتمل ہوگا۔

پہلے مرحلے میں سینکڑوں فلسطینیوں کے بدلے تقریباً 33 قیدیوں کی رہائی کی تجویز دی گی ہے۔ان میں خواتین اور زخمی بھی شامل ہیں۔

جبکہ دوسرے مرحلے میں فوجیوں سمیت تمام اسرائیلی قیدیوں کی رہائی، بے گھر فلسطینیوں کی اپنے گھروں کوں واپسی کے ساتھ ساتھ ان علاقوں سے اسرائیلی افواج کا انخلاء بھی شامل ہے۔

تیسرے اور آخری مرحلے میں عداوت اور جنگ کے مکمل خاتمے اور غزہ کی تعمیر نو کے عمل کے تجویز دی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں