حماس تجویز کو مسترد نہیں کرے گی بلکہ اس میں ترمیم کی درخواست کرے گی: اسرائیلی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ حماس اس کی طرف سے پیش کی گئی تجویز کو واضح طور پر مسترد نہیں کرے گی، بلکہ اس میں ترامیم کی درخواست کرے گی۔ اسرائیلی حکام کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب دوسری طرف حماس نے کہا ہے کہ وہ ایسے کسی معاہدے کو قبول نہیں کرے گی جس میں کی شرائط پوری نہیں کی گئی ہوں گی۔

دو باخبر ذرائع نے پیر کے روز انکشاف کیا کہ حماس کا ایک وفد کل قاہرہ پہنچے گا جہاں مصری اور قطری ثالثوں کے ساتھ غزہ میں جنگ بندی کی تجویز پر بات چیت ہوگی۔

بیروت میں حماس تحریک کے میڈیا اہلکار ولید الکیلانی نے العربیہ/الحدث کو بتایا کہ "ہمارے بنیادی مطالبات میں اسرائیل کا غزہ سے انخلاء اور بے گھر افراد کی گھروں واپسی ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "کوئی بھی معاہدہ جو ہماری شرائط پر پورا نہ اترے اس قبول نہیں کریں گے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم امریکی صدر جو بائیڈن کی تجویز کو مثبت طور پر دیکھتے ہیں۔

الکیلانی نے کہا کہ اسرائیل جنگ بندی کے معاہدے کو مسترد کرتا ہے اور گیند اس کے کورٹ میں ہے۔ اسرائیل جنگ جاری رکھ کر قیدیوں کی رہائی کے مذاکرات کیسے آگے بڑھا سکتا ہے۔

گذشتہ جمعے کو امریکی صدر جو بائیڈن نے غزہ کی پٹی میں جنگ کے خاتمے کے لیے تین مرحلوں پر مشتمل منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی صدر کے مجوزہ جنگ بندی منصوبے میں مرحلہ وار اسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلاء اور قیدیوں کے تبادلے کی تجاویز پیش کی گئیں تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں