خان یونس: حماس کے خلاف حملے میں چار یرغمالی بھی ہلاک ہوگئے : ترجمان اسرائیلی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیل کے چار مزید یرغمالیوں کی غزہ میں قید کے دوران ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے بھی ان کی ہلاکتوؐں کی اطلاع ان کے اہل خانہ کو پیر کے روز باضابطہ طور پر دے دی گئی ہے۔

اس اطلاع کو بھی اسرائیلی فوج کی طرف سے یرغمالیوں کے خاندانوں نے پورے رنج و غم کے ساتھ سر جھکا کے سنا ہے۔ یہ چاروں اسرائیلی یرغمالی سات اکتوبر 2023 کو تقریبا آٹھ ماہ قبل حماس کے تاریخی اور خوفناک حملے میں اٹھا لیے گئے تھے اور ان کے اہل خانہ تب سے اپنی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان یرغمالیوں کی رہائی کے لیے حماس کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ کیا جائے۔

واضح رہے اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالث ملکوں خصوصاً امریکہ کے ذریعے اب تک جتنی بار بھی مذاکرات ہوئے یا تجاویز کا تبادلہ ہو ا یرغمالیوں کی رہائی سر فہرست رہی۔ مگر اسرائیلی حکومت کی مکمل فوجی کامیابی کے ہدف نے اسرائیلی مذاکرات کاروں اور اسرائیلی حکومت کو اس سلسلے میں کسی فیصلے تک پہنچنے سے روک رکھا ہے۔ نتیجتاً ہر دوسرے چوتھے ہفتے یرغمالیوں میں سے بعض کی ہلاکت کی خبر سامنے آرہی ہے۔ لیکن اسرائیلی حکومت یرغمالیوں کی رہائی سے زیادہ حماس کی مکمل تباہی کے لیے جنگ کو طول دیتی جا رہی ہے۔

اسرائیلی فوج نے پیر کے روز ان کے نام سامنے لاتے ہوئے ان کی ہلاکت کو جس طرح اعلان کیا ہے اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ ہلاکتیں بھی اسرائیلی کی اپنی کارروائی کا ہی نتیجہ ہیں۔ فوج کے اعلی ترین ترجمان رئیر ایڈ مرل ڈینئیل ہگاری نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا ' ان چاروں اسرائیلی یرغمالیوں کو خان یونس کے علاقے میں حماس کے خلاف آپریشن کے دوران ایک ساتھ مارا گیا ہے۔ '

اسرائیلی فوج نے ان چاروں یرغمالیوں کے نام بھی جاری کر دیے ہیں۔ ان کے نام بالترتیب چیم پیری، یورام میٹ زگر ، امیرام کوپر اور نداپوپل ویل بتائے گئے ہیں۔

یہ یرغمالی ایک اسرائیلی فوجی کارروائی میں اس وقت مارے گئے ہیں جب امریکی صدر جوبائیڈن نے ان کی رہائی اور غزہ میں جنگ بندی کے لیے تین مراحل پر مبنی ایک روڈ میپ دیا ہے۔ مگر اسرائیلی حکومت نے ابھی تک اس روڈ میپ کو باقاعدہ طور پر مان کر یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ بندی کے لیے آگے بڑھنے کے بجائے اسے محض بیانات کا موضوع بنا رکھا ہے۔

مذہبی یہودیوں کو جنگ میں خدمات انجام دینے سے بچانے کی کٹر حامی اور نیتن یاہو کی حکومت میں انتہا پسند جماعتوں کے وزیر بین گویر اور سموٹریچ نے امریکی روڈ میپ پر عمل کی صورت جنگ بندی ہونے پر حکومت سے نکل جانے کا انتباہ کر دیا ہے۔ گویا انتہا پسند جماعتیں حکومت میں موجود ہونے کی وجہ سے یرغمالیوں کے اس طرح ہلاک ہونے کا رستہ بند کرنا مشکل ہے۔

ان چار یرغمالیوں کی خان یونس میں ہلاکت سے قبل کیبوٹزم نیریم کمیونٹی کے ہلوگوں نے پوپل ویل کی ہلاکت کی پہلے ہی اطلاع دے دی تھی۔ پوپل ویل کی ہلاکت کی خبر حماس کی جانب سے ایک ویڈیو بیان میں ی کہہ کر دی گئی تھی کہ اسرائیلی بمباری کے دوران زخمی ہونے والا پوپل ویل زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا ہے۔

تاہم اس سے کئی ماہ قبل ماہ دسمبر میں حماس کی طرف سے جاری کی گئی ایک مبینہ ویڈیو میں باقی تین یرغمالیوں کو زندہ دکھایا تھا ، جنہیں حماس کے خلاف کارروائی میں ایڈمرل ہگاری کے بقول ہلاک کر دیا گیا ہے۔

اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اسرائیل میں آواز اٹھانے والے ایک گروپ نے چار یرغمالیوں کی قید میں ہلاکت کو ایک تباہ کن خبر قرار دیا ہے۔ گویا حماس کو تباہ کرنے کے لیے اسرائیلی فوج کی لگ بھگ آٹھ ماہ سے جاری جنگ یرغمالیوں کے لیے بھی مسلسل تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔

پیر ہی کے روز اسرائیلی فوج نے دن کے شروع میں بتایا تھا کہ اسے 35 سالہ ڈولیو یود نیر اوز کیبوٹز سے ملی ہے۔ یہ اسرائیلی یر غمالی طبی عملے سے منسلک تھا۔
ادھر تل ابیب میں اسرائیلی حکومت کے لیے یہ چیلنج بنا ہوا ہے کہ وہ اپنے آپ کو سیاسی تباہی سے بچانے کے لیے جنگ کو جاری رکھے یا یرغمالیوں کی زندگیا بچانے کے لیے اب جنگ بند کر دے۔جبلہ یر غاملیوں کے اہل خانہ ، رشتہ داروں اور دوستوں کا رہائی کے حق میں احتجاج جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں