سعودی عرب میں پہلی قومی دفاعی یونیورسٹی قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

67 سال کی فوجی تعلیم کے بعد وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے مسلح افواج کے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کو نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں تبدیلی کرنے کے عمل کا افتتاح کر دیا۔ اس اقدام کا مقصد وزارت دفاع کے ترقیاتی اہداف کو حاصل کرنا ہے۔

یونیورسٹی کو بہترین فوجی ویژن دیا گیا ہے۔ یہ 2030 تک قومی سلامتی اور دفاع کے شعبے میں فوجی اور سویلین لیڈروں کی تیاری اور اہلیت فراہم کرنے کے حوالے سے ایک اہم علاقائی یونیورسٹی بننے جارہی ہے۔ یونیورسٹی کے تعلیمی اور تربیتی پروگرام ملک کے مفادات کو آگے بڑھائیں گے۔

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے مقاصد میں قومی سلامتی میں پیشہ ور کیڈرز کو فارغ التحصیل کرنے کے ساتھ دفاعی اور قومی سلامتی کے شعبوں میں سائنسی تحقیق کرنا بھی شامل ہے۔ اندرونی اور بیرونی طور پر اہم اور سٹریٹجک سطحوں پر فیصلہ سازی کے لیے گریجوایشن پروگرام کی تکمیل اور تعلیمی اور پیشہ ورانہ مہارت فراہم کی جائے گی۔ یونیورسٹی میں وائس پریذیڈنسی برائے ایگزیکٹو سروسز، وائس پریذیڈنسی فار اکیڈمک افیئرز، وار کالج، لیڈرشپ ڈویلپمنٹ سینٹر، جوائنٹ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کے ساتھ ساتھ سینٹر فار سٹریٹجک سٹڈیز کی فیکلٹیز اور شعبے قائم کئے جارہے ہیں۔

نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی جو تعلیمی پروگرام پیش کرتی ہے ان میں ماسٹر آف سٹریٹجک سٹڈیز، ماسٹر آف ملٹری سائنسز، نیشنل سکیورٹی ڈپلومہ، انٹرنیشنل اینڈ ہیومینٹیرین لا ڈپلومہ، پبلک پالیسی ڈپلومہ اور منظرناموں کی تعمیر اور مستقبل کی توقع سے متعلق ایک ڈپلومہ شامل ہے۔ یونیورسٹی قومی سطح پر کرائسز مینجمنٹ کے ساتھ ساتھ ایک مشترکہ آپریشنز پلاننگ کورس بھی پیش کر رہی ہے۔ بین الاقوامی ماحول کے جغرافیائی سیاسی تجزیہ میں ایک ڈپلومہ اور میڈیا سٹڈیز میں ایک ڈپلومہ اور سٹریٹجک لیڈرشپ میں ماسٹر کی ڈگری بھی پیش کیا جارہا ہے۔

چیف آف دی جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل فیاض الرویلی نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے افتتاح اور مسلح افواج کے لیے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کے بجائے اس کے نئے نام کے اعلان کو سراہا اور کہا کہ اس پیش رفت کو وزارت دفاع کی کامیابیوں میں شمار کیا جائے گا۔

ان کامیابیوں سے ہی سعودی عرب اپنے علاقوں کی خودمختاری کو مضبوط اور مضبوط کر رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب فوجی صنعتوں اور ان کی لوکلائزیشن میں سعودی دلچسپی بڑھ رہی ہے یونیورسٹی کے نتائج قومی فوجی صنعت کے شعبے کی لوکلائزیشن کی حمایت کر رہی ہے۔ 2030 تک سعودی عرب کے فوجی سازوسامان اور خدمات پر 50 فیصد سے زیادہ اخراجات کو مقامی بنانا مملکت کی طاقت کو بڑھانے کے حوالے سے ایک اہم ہدف ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں