سعودی ڈاکٹر کے علاج سے ’زانتوما‘ کے مرض میں مبتلا مریض صحت یاب

اسٹریچر پر لایا گیا مریض اپنے پاؤں پرچل کر گھر واپس پہنچا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب کے کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر جدہ نے ایک 58 سالہ مریض کے لیے جلد کے زرد ٹیومر(زانتوما) کے ایک جدید ترین کیس کا علاج کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ مریض 26 سال تک اس بیماری کا شکار رہا ہے۔۔

مریض کو ہسپتال میں اسٹریچر پرلایا گیا تھا مگر علاج کے بعد وہ اپنے پاؤں پر چل کرگھر پہنچا۔

علاج سے قبل مریض ایک دن میں تقریباً 70 گولیاں کھا رہا تھا۔ مگر اس کے باوجود اس کے ’زانتوما‘ کے عارضے میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ اس کی صحت مزید خراب ہوتی گئی۔ رسولیوں نے اس کے جسم کے بہت سے حصوں کو ڈھانپ لیا، جس کی وجہ سے وہ اپنی روزمرہ کی معمولی ضرورتوں کو پورا کرنے سے بھی قاصر رہا۔

سائنسی زبان میں ’xanthoma‘ جلد کے نیچے ایک نایاب عارضے کے طور پر جانا جاتا ہے جو جلد کے نیچے چربی یا کولیسٹرول کے بڑے زرد ٹیومر کی تشکیل کا سبب بنتا ہے۔ اس کے ساتھ شدید درد بھی ہوتا ہے، کیونکہ اس کی موجودگی مریض کی صحت اور معیار زندگی کو نقصان پہنچاتی ہے۔ مریض کے چلنے پھرنے، کھانے پینے اور سونے پرمنفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اس کی نفسیاتی صحت اور سماجی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے۔

مریض کی حالت کے مطابق علاج کا منصوبہ فراہم کرنے کے لیے ماہر نے ایک طبی ٹیم تشکیل دی جس میں اینڈو کرائنولوجسٹ، میٹابولک امراض کے ڈاکٹرز اور ہیماٹولوجی کنسلٹنٹس شامل تھے۔ ٹیم نے مریض کی حالت کی تشخیص شروع کی۔ انہوں نے اس کےعلاج کے لیے ایک ترمیم شدہ پلازما ایکسچینج پروٹوکول کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح کے ایک غیر معمولی کیس میں پہلی بار جسم کے اندر سے ٹھوس چربی کا خاتمہ ہوا اور جلد کے ٹیومر میں بتدریج کمی واقع ہوئی۔ اس طرح ٹیومر کسی جراحی یا دواؤں کی مداخلت کے بغیر مکمل طور پر غائب ہو گئے۔

زانتوما سے صحت یاب ہونے والے کیس کی نگرانی کرنے والی میڈیکل ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر اشرف الدادا کا کہنا ہے کہ مریض جدہ کے کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال میں لایا گیا تھا۔ اس کی صحت بہت زیادہ خراب تھی۔ اس کی طبی حالت کی تشخیص کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ اس کی وجہ ٹرائگلیسرائیڈز میں بہت زیادہ اضافہ ہے جو کہ لاعلاج اور ناقابل علاج حالت میں پہنچ چکی ہے لیکن کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال میں ہمارے پاس ایسے کیسز کے علاج کا تجربہ ہے۔

انہوں نے ’العربیہ‘ چینل کے چار بجے کے ’’نیوزبلیٹن‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ہی کیسز کا علاج پلازما ایکسچینج نامی تکنیک کے ذریعے جسم سے نقصان دہ جسموں کو نکال کر کیا جاتا ہے، جب کہ کنگ فہد اسپیشلسٹ ہسپتال میں انتہائی جدید آلات دستیاب ہیں جو اس تکنیک پر عمل کرنے میں مدد گار ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ کنگ فیصل سپیشلسٹ ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر مسلسل دوسرے سال طبی خدمات انجام دینے میں مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں پہلے اور دنیا میں 20ویں نمبر پر ہے۔اس کا شمار دنیا بھر کے 250 اعلیٰ تعلیمی صحت کی دیکھ بھال کرنے والے اداروں میں ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں