غزہ کی تقسیم کا اسرائیلی منصوبہ کیا ہے اور اس کی کامیابی کیوں مشکوک دکھائی دیتی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غزہ میں مستقبل کی حکمرانی کے لیے وسیع خاکہ تیار ہو گیا ہے۔ منصوبے کے تحت غزہ میں ایسے بلاک جو حماس کے حامی نہیں ہیں کو الگ تھلگ کر دیا جائے گا اور اسرائیلی فوج کے تعاون سے ان کمیونٹیز میں زندگی کو منظم کرنے کے لیے مقامی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔ اس منصوبے کو دوسرے ممالک بھی سپورٹ کریں گے۔

تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ غزہ کو شمال اور جنوب کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ ان دونوں کے درمیان نیٹزاریم محور انہیں الگ کرتا ہے۔ یہ جغرافیائی تقسیم ایک سماجی تقسیم میں بدل سکتی ہے۔ حماس کے حامیوں اور مخالفین کےعلاقوں کے درمیان فرق عملاً غزہ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔

اس منصوبے کا مقصد اسرائیلی فوج کی حفاظت میں الگ تھلگ علاقوں میں مقامی انتظامیہ تشکیل دینا ہے۔ اسرائیل حماس سے غزہ کی حکمرانی ختم کرنے پر اصرار کرتا ہے اور جنگ کے خاتمے کے عمل کے دوران کسی بھی مرحلے پر اس کے تسلسل کو مسترد کرتا ہے۔

اس تناظر میں اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کا کہنا ہے کہ ’’یہ دو اقدامات ایک طرف فوجی آپریشن اور دوسری طرف حکومت کو تبدیل کرنے کی صلاحیت جنگ میں ہمارے دو اہم مقاصد کے حصول کا باعث بنیں گے۔

حماس حکومت کی تباہی اور اس کی فوجی طاقت ہے اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ ہم غزہ میں حماس کی حکمرانی کو قبول نہیں کریں گے"۔

نظریہ کے لحاظ سے اسرائیلی منصوبہ ممکن نظر آتا ہے، خاص طور پر چونکہ ایسی بہت سی عوامی آوازیں ہیں جو غزہ کی پٹی میں حماس اور اس کی پالیسی کے خلاف ہیں اور کسی بھی قیمت پر جنگ سے نجات کے خواہاں ہیں۔

لیکن عملی طور پر حماس کے حامیوں کا ایک اہم اڈہ ہے اور وہ اب بھی زمین پر اور نیچے فوجی طاقت رکھتی ہے۔

جہاں تک کسی بھی فلسطینی آبادی کے اسرائیلی منصوبے کے ساتھ تعاون کرنے کے امکان کا تعلق ہے تو یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے اور اسے عوام میں قبول کرنا آسان نہیں ہے۔

ایک میڈیا انٹرویو میں حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کے میڈیا ترجمان ابو عبیدہ نے کہا کہ "مزاحمت کو ختم کرنے کا دشمن کا مقصد ناکامی سے دوچار ہے اور یہ جنگ اسرائیل کی ناقابل تردید شکست بن چکی ہے‘‘۔

ایسا نہیں لگتا کہ حماس کسی ایسے معاہدے پر راضی ہو جائے جس سے اس کی حکمرانی ختم ہو جائے۔ جہاں تک مقامی انتظامیہ کی حکمرانی کا تعلق ہے اسرائیل نے اس سے قبل 1980 کی دہائی میں مغربی کنارے میں اس کی کوشش کی تھی مگراسے بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اس کو سامنے رکھ کردیکھا جائے توغزہ کے حوالے سے اسرائیل کا یہ بیانیہ بھی مشکوک دکھائی دیتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں