قید یرغمالیوں میں سے ایک تہائی ہلاک ہوچکے: اسرائیلی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل نے خان یونس میں حماس کے خلاف تازہ کارروائی میں اپنے چار یرغمالیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی عوام کو اس طرح کے واقعات کے لیے ذہنی طور پر تیار رکھنے کے لیے ایک نئی اطلاع دی ہے کہ حکام کو یقین ہے کہ حماس کی قید میں بقیہ یرغمالیوں میں سے ایک تہائی یرغمالی مارے جا چکے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یرغمالیوں کی فوجی قوت کی بنیاد پر رہائی کرانے میں اسرائیل کی مسلسل ناکامی اور صدر جو بائیڈن کے اعلان کردہ روڈ میپ کے باوجود حماس کو تباہ کرنے کے لیے انتہا پسند اتحادی جماعتوں کے دباؤ کے ماحول میں اسرائیل کا یہ دعوی بے وجہ نہیں ہے۔

واضح رہے ماہ نومبر 2023 کے آخری ہفتے میں کئی ٹکڑیوں میں ہونے والے جنگی وقفے کے دوران جو یرغمالی رہا ہو سکے وہی زندہ رہا ہوئے۔ ان کے بعد ایک بھی یرغمالی زندہ واپس گھر نہیں پہنچ سکا ۔گاہے گاہے اسرائیلی فوج کے اپنے حملوں اور بمباری سے ہی ہلاک ہوتے رہے۔ جیسا کہ پیر کے روز چار یر غمالیوں کی ہلاکت کے حوالے خان یونس کے حملے کے بارے میں اسرائیلی فوج کے ترجمان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس کے خلاف حملے میں ہلاک ہو گئے۔

اسرائیلی حکام سے جڑے مختلف ذرائع کا کہنا ہے کہ غزہ میں قید باقی 120 یرغمالیوں میں سے 43 کے بارےمیں اندازہ ہے کہ وہ مختلف واقعات میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ بعض حکام نجی طور پر یہ کہتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ ہلاک ہو چکے یرغمالیوں کی تعداد اس اندازے بھی زیادہ ہو۔

منگل کے روز سامنے لائی گئی اس خبر کے مطابق حماس نے جنگ کے شروع ہی دھمکی دی تھی کہ اسرائیل نے آبادیوں کو نشانہ بنایا تو یرغمالیوں کو پھانسی دی کاسکتی ہے۔ اب اسرائیلی حکام نے یہ کہہ دیا ہے کہ اس دوران ملنے والی یرغمالیوں کی لاشوں میں سے بعض کے ساتھ ایسی علامتیں ملی ہیں کہ انہیں پھانسی دی گئی ہو ۔لیکن یہ پھانسی کی علامت کا اسرائیلی دعوی اس سے پہلے بھی سامنے نہیں آیا تھا۔

ایسی کوئی شکایت ہلاک ہونے والے کسی یرغمالی کے خاندان سے بھی نہیں کی گئی۔ نہ ہی کوئی پوسٹ مارٹم رپورٹ بنیاد بنی ہے۔ حتی کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کے کسی ذمہ دار نے بھی ایسی بات نہیں کہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں