اسرائیل نے لبنان میں رہائشی عمارتوں پر حملوں میں وائٹ فاسفورس کا استعمال کیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم نےدعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے کم از کم پانچ قصبوں اور دیہاتوں میں رہائشی عمارتوں پر حملوں میں آتش گیر سفید فاسفورس گولے استعمال کیے جو شہریوں کو نقصان پہنچانے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ لبنان میں سفید فاسفورس کے استعمال کے نتیجے میں جلنے والے زخموں کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں لیکن محققین نے کچھ ایسے شواہد دیکھے ہیں جو سانس لینے نظام کو متاثر کرنے کا باعث بنے ہیں۔

انسانی حقوق کے محافظوں کا کہنا ہے کہ متنازعہ گولہ بارود آبادی والے علاقوں میں فائر کرنا بین الاقوامی قانون کے تحت جرم ہے۔

یہ کیمیکل عمارتوں کو آگ لگا سکتا ہے اور انسانی گوشت کی ہڈی کو جلا سکتا ہے۔

زندہ بچ جانے والوں کو اعضاء کی خرابی یا سانس کے نقصان کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی فوج نےخبر رساں ادارے’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کو بتایا کہ وہ گولہ بارود اور سفید فاسفورس کے استعمال کے حوالے سے بین الاقوامی قانون کے پابند ہے، کیونکہ وہ کیمیکل کو صرف سموک اسکرین کے طور پر استعمال کرتی ہےشہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے اس کا استعمال نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے ایک بیان میں مزید کہا کہ ان کے طریقہ کار کا تقاضا ہے کہ اس طرح کے مواد کو مخصوص مستثنیات کے ساتھ زیادہ آبادی کی کثافت والے علاقوں میں استعمال نہ کیا جائے۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں جنوبی لبنان کے آٹھ رہائشیوں کے انٹرویوز شامل ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے تصاویر کی تصدیق کی اور تقریباً 47 تصاویر اور ویڈیو کلپس کے ذریعے جغرافیائی محل وقوع کا تعین کیا جس میں پانچ لبنانی سرحدی قصبوں میں رہائشی عمارتوں پر سفید فاسفورس کے گولے گرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں