اسرائیل کا فلسطینیوں کے لیے فوجی حراستی کیمپ کا استعمال مرحلہ وار بند کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

اسرائیلی محکمۂ انصاف کے حکام نے بدھ کے روز کہا کہ اسرائیل غزہ جنگ کے دوران قید کردہ فلسطینیوں کے لیے فوج کے زیرِ انتظام حراستی کیمپ کا استعمال ختم کر رہا ہے جس کے بارے میں انسانی حقوق کے گروپوں نے الزام لگایا ہے کہ وہاں قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کی گئی ہے۔

ریاستی وکلاء نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ حماس کے سات اکتوبر کے حملے کے بعد کھولے گئے سدے تیمن قید خانے میں موجود قیدیوں کو مستقل قیام کی سہولیات میں بتدریج منتقل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا، منتقلی شروع ہو گئی ہے اور زیادہ تر قیدیوں کو ایک دو ہفتوں میں منتقل کر دیا جائے گا۔ دریں اثناء اس سے حالات میں بہتری آئے گی۔

اسرائیل میں شہری حقوق کے ادارے کی دائر کردہ درخواست کا جواب دیتے ہوئے سٹیٹ اٹارنی اینر ہیلمین نے عدالت کو بتایا کہ 700 قیدیوں کو پہلے ہی مغربی کنارے میں ایک فوجی ذخیرے عوفر میں منتقل کر دیا گیا تھا۔

مزید 500 کو آئندہ ہفتوں میں منتقل کرنا ہے جس کے بعد سدے تیمان میں 200 قیدی رہ جائیں گے جن کے مستقبل کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔

اسرائیلی فوج غزہ جنگ کے دوران حراست میں لیے گئے اور سدے تیمان قید خانے کے فلسطینیوں کی ہلاکت کی تحقیقات کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں