العلا میں کئی عجائب گھروں کے قیام پر غور کررہے ہیں: العلا کمیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے مرکز میں عرب خطے میں اپنی نوعیت کی پہلی منفرد تقریب میں عجائب گھروں کے حوالے سے تعلیم اور ایجادات پر بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس کانفرنس میں ان طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا جن کے ذریعے اسکولوں زیر تعلیم بچوں میں عجائب گھروں کے کردار اور اہمیت کو فروغ دینا ہے اورنئی اختراعات، عجائب گھروں میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ اس کا مقصد میوزیم کی تعلیم کی ترقی کےحوالے سے ایسے طریقےتلاش کرنا جو تخلیقی لوگوں، دلچسپی رکھنے والوں اور اسی شعبے میں محققین کی حوصلہ افزائی کا موجب بنیں۔

العلا گورنری کے رائل کمیشن میں آرٹس اور تخلیقی صنعتوں کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نورہ الدبل نے انکشاف کیا کہ کمیشن فی الحال العلا گورنری میں متعدد عجائب گھروں کے قیام کا مطالعہ کر رہا ہے۔ ان کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کمیشن کی طرف سے تیار کردہ ماسٹر پلان کے حصے کے طور پر سیاحتی مراکز اور تاریخی مقامات جس میں اصل میں 15 ثقافتی مراکز شامل ہیں کا ایک گروپ تشکیل دیا جائے گا۔

مخصوص عجائب گھر

نورہ الدبل نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے ساتھ اپنے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ سعودی عرب میں متعدد بہترین عجائب گھرموجود ہیں جو نجی شعبے کے زیر انتظام چل رہے ہیں۔ وہ مملکت اور اس کے ثقافتی اور سماجی ورثے کو متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم یہ کافی نہیں بلکہ کئی عجائب گھروں اور ان کے متعلقہ شعبوں کو قائم کرنے، چلانے اور ترقی دینے کے حوالے سے وزارت ثقافت کی کوششیں جاری ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب کو اپنے تمام مختلف خطوں میں بڑی تعداد میں عجائب گھروں کے قیام کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ عظیم ثقافتی اور تاریخی تنوع کی خصوصیت رکھتا ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ موجودہ سعودی عجائب گھروں کو ترقی دینے اور نئے عجائب گھروں کے قیام کی کامیابی سماجی نوعیت کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔

میوزیم کے قیام کے لیے اس شہر کا ماحول کے مطابق اس کی تیاری کی جانی چاہیے، کیونکہ میوزیم جہاں ہوتا ہے وہاں کے معاشرے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سعودی عرب میں عجائب گھر

الدبل نے اپنی گفتگو میں مزید کہا کہ میوزیم کے شعبے کو ترقی دینے اور آگے بڑھانے اور اس کی اہمیت کے بارے میں بیداری کی سطح کو بڑھانے کے لیے العلا کے رائل کمیشن کے پاس ایک مربوط ٹیم ہے جو زیر تعلیم مرد اور خواتین طلباء کے لیے ثقافتی پروگرام تیار کرتی ہے۔ اسکولوں میں میوزیم کے شعبے میں ان کی بیداری کی سطح اور اس کی اہمیت کو کم عمری سے ہی بڑھانے کے لیے وزارت تعلیم کے تعاون سےکام کر رہی ہے۔

ثقافتی ورثہ خطرے میں

دوسری جانب اردنی میوزیم اتھارٹی کی نائب صدر راشا دبابنہ نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا کہ عرب اور اسلامی ثقافتی ورثہ خطرے میں ہے۔ اسے خطرے سے بچانا صرف عجائب گھروں کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔ ہمارے معاشروں میں ان پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ عجائب گھر ہی ہمارے فن پاروں کو محفوظ رکھتے ہیں۔ ہماری عرب اور اسلامی تاریخ اس خطے میں ثقافتی روات سے جڑی ہوئی ہے۔

راشا نے کہا کہ ریاض شہر میں پہلی بار میوزیم سیکٹر سے متعلق کانفرنس کا انعقاد اس اہم شعبے کی ترقی کے لیے بہتری اور امید کی علامت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فی الحال ایک میٹنگ کو مربوط کرنے کے لیے کام کیا جا رہا ہےجو عرب دنیا کے تمام عجائب گھروں کے ساتھ مل کر ممالک میں عجائب گھروں کے قیام میں تعاون کے طریقے طے کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں