جنگ بندی تنازعہ:اسرائیلی حکومت کےانتہا پسنداتحادی بین گویرحکومتی امورمیں خرابی پرتیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی حکومت کے اہم انتہا پسند اتحادی جماعت کے سربراہ ایتمار بین گویر وزیر اعظم نیتن یاہو کوانتباہ کیا ہے کہ جب تک ان کے ساتھ جوبائیڈن جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات شئیر نہیں کی جاتیں وہ حکومتی امور میں خلل ڈالیں گے۔

اتحادی وزیر نے اس سے پہلے دھمکی دی تھی' اگر حماس کے خاتمے کے بغیر جنگ بندی کی گئی تو وہ حکومت سے الگ ہو جائیں' ۔ اب انہوں نے حکومت سے الگ ہونے یا حکومت کو گرانے اور توڑنے کے بجائے اس سے کم درجے کی دھمکی دی ہے اور حکومتی امور میں خلل کی دھمکی دی ہے۔

حتیٰ کہ بین گویر نے اتحاد کو معطل کرنے کا بھی اعلان نہیں کیا ہے ، وہ حکومتی اتحادی بھی رہیں گے، وزیر بھی رہیں گے مگر ان کی جماعت خلل ڈالتی رہے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس ' پر بین گویر اپنا خلل اور خرابی ڈالنے کا اعلان کر کے بظاہر اپنی جماعت کے انتہا پسند کارکنوں اور ووٹروں کی تسلی کی کوشش کی ہے۔ نیز نیتن یاہو کی حکومت کی مجبوریوں کو نمایاں کیا ہے۔

نیتن یاہو کی حکومت اپنے انتہا پسند اتحادیوں کی حمایت کے محتاج ہے۔ مگر ابی تک بین گویر نے اپنی ناراضگی پارلیمنٹ میں حکومتی بائیکاٹ یا کابینہ اجلاسوں کے بائیکاٹ کا بھی نہیں کیا ہے ، یہ محض اسرائیلی حکومت کا ممکنہ مذاکراتی عمل میں وزن بڑھانے کی ایک کوشش بھی ہو سکتی ہے۔ کم از کم ابھی تک یہی ہے۔ تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ یہ نیتن یاہو کی حکومت کی ٹوٹ پھوٹ کی ابتدا بھی ہو سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں