جنگ کے بعد حماس اور سیاسی حریف گروپ الفتح کے درمیان بات چیت کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

فلسطینی اتھارٹی پر حکمران فلسطینی جماعت فتح اور فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے پانچ ذرائع کے ساتھ انٹرویوز کے دوران یہ اشارہ ملا ہے کہ فی الوقت دونوں کے درمیان سیاسی فاصلے اور تقسیم گہری ہے۔ جیسا کہ فلسطینی اتھارٹی کے بعض ذمہ دار حماس کی اس جنگ کے بارے میں سخت تحفظات رکھتے ہیں۔ مگر یہ امکان موجود رہے گا کہ حماس جنگ بندی کے بعد بھی عوامی سطح پر اپنی موجودگی اور اثرات کے باعث غزہ میں موثر رہے گی، نیز فتح کے ساتھ اس کی مختلف امور پر بات چیت بھی ہوتی رہے گی۔

دونوں جانب کے حکام انٹرویوز کے دوران اس سلسلے میں سب سے پہلے حماس فتح رابطے کا امکان ماہ جون کے دوران ہی چین میں ہونے کا بتا رہے ہیں۔ جاری غزہ جنگ کے دوران اور اس سے پہلے بھی فتح اور حماس کے درمیان روس اور چین میں اس طرح کے مذاکرات ہو چکے ہیں۔ دونوں طرف کے حکام بتاتے ہیں کہ یہ فلسطینی مذاکرات اعلیٰ ترین سطح پر متوقع ہیں ، کہ ان میں صدر فلسطینی اتھارٹی محمد عباس خود فتح کی نمائندگی کریں گے۔ ماہ جون کی یہ متوقع مذاکراتی ملاقات بھی پچھلی دو ملاقاتوں کا تسلسل ہو گی، جن میں سے ایک روس میں اور دوسری چین میں ہوئی ہے۔ گویا مذاکراتی تال میل برقرار ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'روئٹرز' کا اس سلسلے میں کہنا ہے امکانی طور پر دونوں فلسطینی جماعتوں کے درمیان چین میں یہ مذاکرات بین الاقوامی ثالثوں کی جانب سے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کے لیے کوششوں کے درمیان منعقد ہوں گے۔ اہم نکات جنگ کے بعد کے حالات میں غزہ پر حکومت کون کرے گا، اور کیسے کی جائے گی؟

حماس کو بہت سے مغربی ممالک اسرائیل اور امریکہ کی طرح دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔ اگرچہ اس کی سیاسی شناخت بھی ہے۔ لیکن 7 اکتوبر کو ہونے والے حملے سے اس نے اسرائیل میں 1,200 افراد کو ہلاک کر کے اسرائیل کو دہشت زدہ کر دیا ۔ 250 اسرائیلی یرغمالیوں میں سے اب بیسیوں کی تعداد میں حماس کے عسکری ونگ کی قید میں ہیں۔

لیکن اس کے باوجود حماس کے سیاسی بیورو کے ارکان کی فتح تحریک کے عہدیداروں کے ساتھ ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں ۔ فتح جو مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم فلسطینی اتھارٹی کی حکومت چلاتی ہے۔ اس معاملے سے واقف ذرائع کے مطابق حماس کے اندر مذاکرات ہوتے ہیں۔

ان حکام نے دیگر عہدیداروں کی طرح اپنا نام شائع کرنے سے انکار کردیا کیونکہ وہ میڈیا کے ساتھ حساس معاملات پر بات کرنے کے مجاز نہیں۔

حماس سے متلق ایک ذریعے نے کہا ،حماس کو اندازہ ہے کہ جب پٹی میں لڑائی ختم ہو جائے گی تو اسرائیل اور اسرائیل کی حامی بین الاقوامی طاقتیں اسے فلسطینی علاقوں کے لیے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ نئی حکومت کا حصہ بننے سے ہر طرح روکیں گی۔

ذرائع کےعلاوہ حماس کے سینیئر رہنما باسم نعیم نےکہا ' تحریک اس کے باوجود یہ چاہتی ہے کہ فتح ایک وسیع تر سیاسی معاہدے کے فریم ورک کے اندر مغربی کنارے اور غزہ کے لیے ماہرین کی نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے تیار ہو۔'

چین میں مفاہمتی مذاکرات کے پچھلے دور میں شرکت کرنے والے باسم نعیم نے ایک انٹرویو میں کہا، ’ہم یہ بات فلسطینی وجود کے نظام کی بحالی کے لیے سیاسی معنوں میں سیاسی شرکت اور سیاسی مفاہمت کی بات کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا' ہمارا اصل مسئلہ حکومت میں ہونا یا نہیں ہونا ہے۔ہمارا مقصد فلسطینی ریاست کا قیام ہے،جو مکمل طور پر خود مختار اور آزاد ریاست ہو۔' حماس کے کئی سیاسی رہنماؤں کی طرح باسم نعیم بھی غزہ سے باہر جلاوطنی کاٹ رہے ہیں۔

لیکن حماس کے ایک بااثر سیاسی کھلاڑی کے طور پر سرگرم وجود باقی رہنا اسرائیل کے اتحادی مغربی ممالک کے لیے ایک کانٹے دار مسئلہ ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے حماس کو ختم کرنے کے ہدف کے باوجود زیادہ ترمبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ جنگ بندی کے بعد تحریک کسی نہ کسی شکل میں موجود رہے گی۔ کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے جس حماس کو نیتن یاہو کی تمام تر فوجی قوت آٹھ ماہ میں ختم نہیں کر سکی ، محض مذاکرات کی میز پر ہونے والے کسی فیصلے سے ختم ہوجائے۔ اگرچہ آرزو مندی اسی کی ہے۔

لیکن یہ اپنی جگہ حقیقیت ہے کہ غزہ کی جنگ میں 36550 فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد بھی یہ ایک مسئلہ موجود ہے۔ اسرائیل کی طرح امریکہ بھی اس تشویش کا شکار ہیں۔ امریکی حکام نجی گفتگو میں اسرائیلی کی صلاحیت پر بھی شک ظاہر کرتے رہے ہیں۔ جو حماس کے خاتمے کے لیے ضروری تھی۔تاہم، بعض امریکی حکام نے نجی طور پر اس گروپ کو ختم کرنے کی اسرائیل کی صلاحیت پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔ ابھی پچھلے ماہ ایک سینیئر امریکی ذمہ دار نے 14 مئی کو کہا 'امریکہ اس بات کو مسترد کرچکا ہے اسرائیل غزہ میں مکمل فتح حاصل کر سکتاہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان پیٹر لرنر کہہ چکے ہیں 'حماس کے ہر رکن کو قتل کرنا غیر حقیقی ہے اور یہ اسرائیلی فوج کا مقصد نہیں تھا، لیکن حماس کو غزہ میں بطور حکمران باقی نہ رہنے دینا اور ختم کرنے کی بات کرنا ایک آسان فوجی ہدف ہے۔'

مغربی ممالک جنگ کے بعد غزہ کی پٹی کو منظم کرنے کے خیال کی حمایت کرتے محمود عباس کے زیر قیادت فلسطینی اتھارٹی کی تنظیم نو کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ اس کے گورننس کے امور کے علاوہ بھی اسے مضبوط دیکھنے کی خواہش دیرینہ ہے۔ دنیا بھر میں بہت سے لوگ اسے فلسطینیوں کی نمائندگی کرنے کے لیے سمجھتے ہیں، اور اسے امریکہ اور یورپی یونین سے سیکیورٹی امداد بھی ملتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں