متنازعہ القدس مارچ سے قبل اسرائیلی پولیس کی بڑی تعداد میں تعیناتی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یہودی قوم پرستوں کے سالانہ مارچ سے قبل بدھ کے روز اسرائیلی پولیس نے مشرقی بیت المقدس میں بھاری نفری تعینات کر دی۔ اس دفعہ یہ مارچ غزہ جنگ میں تقریباً آٹھ ماہ سے جاری کشیدگی کے ساتھ آ رہا ہے۔

یہ نام نہاد یومِ یروشلم پرچم بردار مارچ 1967 کی عرب-اسرائیل جنگ میں اسرائیلی فوج کے شہر کے مشرقی سیکٹر پر قبضے کی یاد میں منعقد کیا جاتا ہے۔

بنیادی طور پر مذہبی قوم پرست ہزاروں کی تعداد میں پریڈ کرتے ہوئے قدیم یروشلم شہر کے عرب محلوں سے گذرتے ہیں جس میں وہ قومی پرچم لہراتے، رقص کرتے اور اشتعال انگیز اور نسل پرستانہ نعرے بھی لگاتے ہیں۔

اے ایف پی کے ایک نمائندہ نے رپورٹ کیا کہ پولیس نے دن کے وقت 3,000 سے زائد اہلکاروں کو تعینات کرنے کے منصوبے کا اعلان کرنے کے بعد دمشق دروازے کے داخلی راستے کے قریب رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔

پولیس عموماً مارچ کے راستے کے قریب فلسطینیوں کے کاروبار زبردستی بند کر دیتی ہے اور فلسطینی باشندوں کو دور رکھتی ہے۔

بنیادی طور پر عرب محلوں سے گذرنے والے راستے کا انتخاب کئی فلسطینیوں کے نزدیک اشتعال انگیزی کی دانستہ کوشش ہے۔ اپنی مستقبل کی ریاست کے دارالحکومت کے طور پر وہ فلسطینی شہر کے مشرقی سیکٹر پر دعویٰ کرتے ہیں۔

تاہم پولیس نے توقع ظاہر کی ہے کہ مارچ اپنی عام منزل یعنی مقدس ترین مغربی دیوارِ گریہ پر ختم ہو گا جہاں یہودی عبادت کریں گے۔

پولیس نے کہا کہ وہ مارچ کے دوران "امنِ عامہ، حفاظت اور املاک کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ براہِ راست ٹریفک کو برقرار رکھنے" کے لیے پورے شہر میں افسران تعینات کر رہے تھے۔

2021 میں حماس نے مارچ کے آغاز کے ساتھ ہی یروشلم کی طرف راکٹوں کی ایک بوچھاڑ کی تھی جس سے اسرائیل اور فلسطینی گروپ کے درمیان 12 روزہ تنازعہ شروع ہو گیا جس میں اسرائیلی شہروں میں یہودی-عرب تشدد بھی واقع ہوا۔

اس سال کا مارچ حماس کے سات اکتوبر 2023 کے حملے کے تقریباً آٹھ ماہ بعد آیا ہے جس کے نتیجے میں اسرائیل میں 1,194 افراد ہلاک ہو گئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں