بائیڈن، اہم اتحادیوں کا مشترکہ بیان میں حماس پر جنگ بندی معاہدہ قبول کرنے پر زور

اسرائیل سے بھی لچک کا مظاہرہ اور سمجھوتہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر جو بائیڈن اور 16 دیگر عالمی رہنماؤں بشمول اہم یورپی اور لاطینی امریکی اتحادیوں نے جمعرات کو مشترکہ طور پر زور دیا کہ حماس جنگ بندی معاہدہ قبول کرے اور اسرائیل سمجھوتہ قبول کرے۔

وائٹ ہاؤس سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا، "ضائع کرنے کو کوئی وقت نہیں بچا ہے۔ ہم حماس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یہ معاہدہ منظور کرے۔"

اس بیان پر اہم یورپی طاقتوں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے ساتھ ساتھ سپین کے رہنماؤں نے بھی دستخط کیے جس نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر کے اسرائیل کو مشتعل کر دیا ہے۔

مزید غیر معمولی طور پر اس بیان نے جنوبی امریکہ کی سب سے زیادہ آبادی والے ممالک یعنی برازیل اور کولمبیا اور ارجنٹائن کے نظریاتی طور پر مختلف رہنماؤں کو مجتمع کیا۔ برازیل اور کولمبیا کے بائیں بازو کے صدور نے اسرائیل کی سخت مذمت کی ہے جبکہ ارجنٹائن کے نئے آزادی پسند رہنما اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں۔

امریکہ نے بارہا کہا ہے کہ اس معاہدے کو قبول کرنے کی ذمہ داری کا بار اب حماس پر ہے لیکن ساتھ ہی بیان میں اسرائیل سے بھی لچک کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا، "اس فیصلہ کن لمحے میں ہم اسرائیل کے ساتھ ساتھ حماس کے رہنماؤں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جو بھی حتمی سمجھوتہ ضروری ہو، وہ کریں تاکہ یہ معاہدہ طے ہو جائے اور ہمارے یرغمالیوں کے خاندانوں کے ساتھ ساتھ اس خوفناک تنازعے کے دونوں اطراف کے لوگوں بشمول شہری آبادی کو سکون ملے۔"

نیز کہا گیا، "یہ جنگ کے خاتمے کا وقت ہے اور یہ معاہدہ ضروری نقطۂ آغاز ہے۔"

بائیڈن نے گذشتہ ہفتے عوامی طور پر ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا تھا جس میں اسرائیل غزہ کے آبادی کے مراکز سے دستبردار ہو جائے گا اور حماس ابتدائی چھ ہفتوں کے لیے یرغمالیوں کو آزاد کر دے گی اور جنگ بندی میں توسیع کر دی جائے گی تاکہ اس دوران مذاکرات کار دشمنی کے مستقل خاتمے کے لیے کوئی حل پیش کریں۔

انہوں نے اس منصوبے کو اسرائیلی پیشکش قرار دیا حالانکہ اس پر دائیں بازو کے بعض اسرائیلی سیاست دانوں نے تنقید کی ہے جو وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی مخلوط حکومت کے ناقد ہیں۔

ثالث قطر نے یہ منصوبہ نظرِثانی کے لیے حماس کو پیش کر دیا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن بھی عرب وزرائے خارجہ کے ساتھ فون کالز کے ذریعے اس منصوبے کو آگے بڑھاتے رہے ہیں۔

جمعرات کے بیان پر تھائی لینڈ نے بھی دستخط کیے جس کی بڑی افرادی قوت اسرائیل میں کام کر رہی ہے اور سات اکتوبر کے حملے میں حماس کے ہاتھوں قید 250 کے قریب یرغمالیوں میں اس کے بھی تقریباً 30 شہری شامل تھے۔

بیان پر دستخط کرنے والے دیگر ممالک میں آسٹریا، بلغاریہ، کینیڈا، ڈنمارک، پولینڈ، پرتگال، رومانیہ اور سربیا شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں