جنگ بندی روڈ میپ نشر کر کے جو بائیڈن نے دباؤ نیتن یاہو پر منتقل کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے غزہ میں جنگ بندی کے لیے اپنی طرف سے اعلان کیے گئے روڈ میپ کے بارے میں کچھ گوشے پوری تصویر کے ساتھ نمایاں ہونے لگے ہیں۔

اولاً یہ کہ یہ روڈ میپ امریکہ یا اس کے صدر کی اپنی ذہنی اخترا نہیں ہے بلکہ اسرائیل اور امریکہ کے کئی حکام کے درمیان اس بارے میں لمبی چوڑی سوچ بچار، مشاورت اور ہر طرح کے ثمرات اور مضمرات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد دونوں کی حکومتوں کی منظوری کے نتیجے میں اس حتمی فارمولے کی سطح تک پہنچا کہ اب زبان زد عام ہے۔

ثانیاً یہ کہ جو بائیڈن نے اس بارے میں جو کچھ از خود بیان کیا ہے اس کے لیے اسرائیلی سے باضابطہ اجازت اس انداز سے نہیں لی تھی جس انداز سے اسے نشر کیا گیا ہے۔ گویا تفصیلات میں جائے بغیر اشارتاً اور اطلاعاً اسرائیل کے گوش گزار کر دیا گیا تھا 'ہم غزہ ' پر بات کرنے جا رہے ہیں۔

تیسری اور اہم بات یہ ہے کہ جو بائیڈن کے اس طرح بظاہر یکطرفہ انداز سے یہ تجاویز ایک باضابطہ روڈ میپ کی صورت میں حماس کو بھجوانے کے علاوہ پوی دنیا کے سامنے نشر کر دینے سے نیتن یاہو کو دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

چوتھی بات جس کو صدر جو بائیڈن نے ایک روز قبل نیتن یاہو کے حوالے سے بیان کیا کہ وہ غزہ کی جنگ کو اپنے سیاسی بچاؤ کے لیے لمبا کرنے کی کوشش میں ہیں۔ یہ بات درست اور سچ ہے، مگر بعض مبصرین اسے صدر جو بائیڈن کی انتخابی ضرورت کا ایک معاملہ بھی دیکھتے ہیں۔ جس طرح نیتن یاہو کے انتہا پسند اتحادیوں نے بھی مخلوط حکومت کو انتباہ کیے ہیں وہ بھی ان کی سیاسی ضرورتوں اور ووٹ بنک کے مسائل کی چغلی کھاتے ہیں۔

تاہم جو چیزیں مصدقہ اور واضح ہیں وہ یہی ہیں کہ جوبائیڈن کا بر سر عام پیش کیا گیا روڈ میپ اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ پیش کش ہے۔ اسے امریکہ نے حماس کو بھیجا اور پھر اس کو نشر بھی کر دیا۔ ہاں اس کے نشر کرنے سے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم سے کوئی باضابطہ منظوری نہیں لی گئی تھی۔

واضح بات ہے کہ اگر اس کی باضابطہ منظوری اسرائیلی وزیر اعظم سے لی جاتی تو فائدے کا سیاسی یا انتخابی کیک جو بائیڈن کے حصے کیونکر لگتا۔ یہ بھی اپنی جگہ قرین قیاس ہے کہ سیاسی و عدالتی اعتبار سے مشکلات میں گھرے نیتن یاہو کے لیے واحد سہارے کے طور پر ایک جنگ بروئے کار ہے۔ اسے جاری رکھنا اگر ان کی ضرورت ہے تو اس کے خاتمے کا سیاسی کریڈٹ بھی وہ خود ہی اور اکیلے لینے کے آرزومند ہوں گے۔ اس کے لیے مناسب وقت اور مرحلے کا انتظار یا تعین وہ اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتے ہوں گے ، جو شاید جوبائیڈن کے اعلان کر دینے سے متاثر ہوا ہے۔

اس بارے میں تین انتہائی باخبر امریکی حکام بھی بعض چیزوں کی تصدیق کرتے ہیں۔ وہ اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ طور پر روڈ میپ تیار کرنے کی ہے ، مگر اس کا یکطرفہ طور پر امریکہ کی طرف سے ایک معمول سے ہٹ کر کیا گیا اقدام ہے۔ ان حکام کے مطابق یہ جانتے بوجھتے کیا گیا اور اس لیے کیا گیا کہ اسرائیل اور حماس دونوں کو اس معاہدے سے فرار یا گریز کا موقع نہ مل سکے۔ اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر امریکہ کے ایک سینئیر ذمہ دار نے کہا ' ہم نے اس تجویز کا اعلان کرنے کے لیے اسرائیل سے اجازت نہ لی تھی۔' یہ بات اس امریکی ذمہ دار نے کہی جسے اس معاملے میں بولنے کا مجاز بنایا گیا تھا۔

اس امریکی ذمہ دار نے دو ٹوک کہا 'ہم نے اسرائیلیوں کو آگاہ کر دیا تھا ہم غزہ کے بارے میں ایک تقریر کرنے والے ہیں۔ مگر اس تقریر کے حوالے سے تفصیلات میں جائے بغیر اسرائیلیوں کو آگاہ کیا تھا۔' یاد رہے اسرائیل اور حماس کی جنگ رکوانے کے لیے کئی مہینوں سے ثالثی کی کوششوں میں امریکہ، مصر اور قطر مصروف رہے لیکن ہزاروں افراد کی ہلاکت کے باوجود ناکام رہے۔

جمعہ کے روز صدر جو بائیڈن کی طرف سے اعلان کردہ تجویز میں چھ ہفتوں کے لیے ابتدائی جنگ بندی ہو گی۔ جس کے ساتھ غزہ کے آبادی والے علاقوں سے اسرائیلی فوج کا انخلا ہوگا اور اسرائیلی یرغمالیوں میں سے کچھ تعداد کو رہائی مل جائے گی۔ جبکہ جنگ کے مستقل اختتام اور دشمنی کے خاتمے کے لیے ثالث ملکوں کے ذریعے بات چیت جاری رہے گی، جس کے لیے حماس کافی عرصے سے مطالبہ کر رہا ہے۔

امریکہ کی یونیورسٹی آف ٹیکساس میں تاریخ اور پبلک افئیرز کے پروفیسر جیریمی سوری کا اس بارے میں کہنا ہے 'جو بائیڈن کا اس تجویز کو ایک ڈیل کے طور پر فریم کر کے پیش کرنا اس لیے ہے کہ اس سے جنگ بندی کے لیے نیتن یاہو پر دباؤ پیدا کیا جاسکے۔' پروفیسر سوری نے مزید کہا' جو بائیڈن ایسا کر کے نیتن یاہو کو معاہدے کو قبول کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ '

جب یہ بات ایک اسرائیلی ذمہ دار سے پوچھی گئی کہ کیا واقعی جوبائیڈن نیتن یاہو پر دباؤ ڈال رہے ہیں تو اس کا جواب تھا ' کوئی بھی شخص اسرائیل کو حماس کی تباہی سے نہیں روک سکتا اور نہ کوئی ہمیں حماس کی حکومت کرنے کی صلاحیت کو تباہ کرنے سے روک سکتا ہے۔

اس اسرائیلی ذمہ دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کے لیے کہتے ہوئے کہا' اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اسرائیل کو اپنے مفاد کے برعکس کام پر مجبور کر سکے گا تو یہ خام خیالی ہے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ حماس پر دباؤ ڈالا جائے۔'

امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے ترجمان جان کربی نے پیر کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا ' یہ درست نہیں ہے کہ امریکی انتظامیہ اسرائیلی رہنما کو جام یا بےبس کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔'

معاہدے کے لیے رکاوٹیں

اہم بات یہ ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے تازہ ترین تجویز کامیاب ہو جائے گی۔ منگل کی شام، قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ' ثالث ملک ابھی تک حماس کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔'

اسرائیلی وزیر اعظم کے خارجہ پالیسی کے لیے مشیر اوفیر فلک نے جمعہ کے روز اس تجویز کے اعلان کے فوری بعد کہا تھا کہ نیتن یاہو نے اس تجویز پر دستخط کر دیے ہیں۔ لیکن بعد ازاں وزیر اعظم نے عوام کے سامنے ایسے بیانات دیے کہ اس بارے میں شبہ پیدا ہونے لگا کہ وہ اس تجویز کے مکمل ساتھ ہیں یا نہیں۔

نیتن یاہو کے اہم اتحادی بین گویر نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت اس وقت تک حکومت کو خراب کرے گی جب تک نیتن یاہو اس غزہ ڈیل کی تفصیلات سامنے نہیں لاتے۔

لیکن جہان تک جوبائیڈن کا تعلق ہے ان پر بھی غزہ میں جنگ اور اس بارے میں امریکی پالیسی کے حوالے سے دباؤ ہے۔ ان کی جماعت کے اپنے ڈیمو کریٹس بھی ایسے ہیں جو کہنے لگے ہیں کہ ٹرمپ کے دوبارہ مقابلے میں وہ اب ووٹ نہیں دیں گے۔ گویا دباؤ کے ماحول میں ہی جوبائیڈن نے بھی اس تجویز کو عام کرنا ضروری سمجھا ہے کہ وہ غزہ جنگ کو روکنا چاہتے ہیں۔

وہ اس وقت اس جنگ کو روکنے کے لیے اسی طرح ظاہر کر رہے ہیں جس طرح ماضی میں اس کے بر عکس جنگی قرار دادوں کو ان کا ملک ویٹو کرتے ہوئے شدو مد سے جاری رکھنے پر زور لگا رہا تھا اور اسلحہ بھجوا رہا تھا۔ مگر اب منظر مختلف ہے۔ سیاسی حالات نے کئی اہم جنگی کھلاڑیوں کی کلا مروڑ دی ہے۔

جنگ بندی نہ ہوئی تو بھی کسی کا سیاسی نقصان ہوگا اور ہو گئی تو بھی کئی نقصان اٹھائیں گے کہ اس غزہ کی جنگ میں 36550 سے زائد فلسطینیوں کا خون ٹپک ٹپک کر جم گیا ہے۔ اس خون کی کئی شکلوں کے سامنے آنے کا خدشہ موجود رہے گا۔ تاہم یہ امریکی روڈ میپ کا شور کامیاب ہو گیا تو جو بائیڈن اس کے پہلے پولیٹکل بینفیشری ہونے کی کوشش میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں