غزہ: جنگ سے ہلاکتوں کے نتیجے میں اسرائیلی حق دفاع اورہولوکاسٹ کی اصطلاح بے معنی ہوگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی ماہر سیاسیات نارمن فنکلسٹائن نے غزہ کی صورتحال کو بدترین جیل اور موت کے سزا یافتہ قیدیوں کی جگہ سے بھی بڑھ کر خطرناک جگہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے جو کچھ غزہ میں کیا ہے اس کے نتیجے میں اس نے ہولو کاسٹ کا تصور بہت سستا کر دیا ہے۔ غزہ میں آج کسی کا رہنا ایسے ہی ہے کہ جیسے اس پر دنیا اور زندگی کے دروازے بند کر دیے گئے ہوں۔' وہ 'العربیہ' کے رض خان سے ایک خصوصی انٹرویو میں گفتگو کر رہے تھے۔

سیاسیات کے امریکی پروفیسر فنکلسٹائن نے کہا 'غزہ کی آبادی کو دنیا سے سر بہ مہر کر دیا گیا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ جیسے وہاں کے لوگ موت کی سزا بھگت رہے ہوں اور یہ اس لیے لگتا ہے کہ وہاں کئی مہینوں سے امدادی سامان حتیٰ کہ ابتدائی اور بنیادی نوعیت کی خوراک، پینے کا پانی، مٹی کا تیل، بجلی، گیس سب کی سپلائی منقطع کر دی گئی ہے اور ادویات کی رسائی کو روک دیا گیا ہے۔'

پروفیسر نے کہا 'اگر آپ کسی کا کھانا پینا روک دیں گے ، اس کے گھر کے چولھے کے لیے ایندھن روک دیں گے ، بجلی سے چلنے والے بلب اور پنکھے کا امکان ختم کر دیں گے تو یہ قید اور غلام قسم کے لوگ ہوں گے۔ جنہیں آپ نے ایک بہت بڑے 'کنسٹریشن کیمپ' میں رکھتے ہوئے دنیا سے کاٹ دیا ہو۔' فنکلسٹائن نے کہا 'آپ غزہ میں لوگوں کے لیے اس طرح موت کے پروانے جاری کر رہے ہیں۔'

پروفیسر فنکلسٹائن نے مزید کہا 'میں ذاتی طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ غزہ کے لوگوں کو نازیوں کی طرف سے پیش آنے والے ہولو کاسٹ کی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی اب ضرورت اس بات کی ہے کہ جو کچھ غزہ میں خوفناکی، ہولناکی اور موت برسانے کا سلسلہ جاری ہے اس کے لیے ہولو کاسٹ کی اصطلاح مستعار لے کر استعمال کی جائے۔ جو کچھ غزہ میں ہو رہا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔'

یاد رہے ہولو کاسٹ یورپ میں بسنے والے یہودی کمیونٹی کے جرمن نازیوں کے ہاتھوں قتل عام کا نام ہے۔ ہولو کاسٹ کی اصطلاح اسرائیلیوں نے سات اکتوبر کے اسرائیل پر ہونے والے حملے کے بعد بڑھے ہوئے تواتر کے ساتھ استعمال کی ہے۔ لیکن ایک ہولو کاسٹ سے بچ نکلنے والے یہود کے بیٹے ہونے کے ناطے پروفیسر فنکلسٹائن نے اس انٹرویو میں کہا ہے 'اب ہولو کاسٹ کا یہ لفظ استعمال کرنا اسرائیل نے بہت سستا کر دیا ہے۔'

اسرائیل نے ایک منظم طریقے سے اس لفظ کو استعمال کر کر کے سستا کیا ہے۔ جس کے پیچھے اسرائیل کے سیاسی مقاصد غالب رہے اور ہولو کاسٹ کا اصل واقعہ پیچھے رہ گیا۔ میں اپنے ذاتی معاملے میں یہ کہوں گا اب مجھے ہولوکاسٹ کی یہ اصطلاح استعمال کیے جانے کا کوئی خاص اثر نہیں ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا 'ہولو کاسٹ کی اصطلاح کے استعمال کو کم اہم کر دیا ہے۔' یاد رہے سات اکتوبر 2023 سے اسرائیل اپنے اہم ترین اور طاقتور بین الاقوامی اتحادیوں کی مدد سے غزہ میں مسلسل جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس جنگ کو کل جمعہ کے روز پورے آٹھ ماہ مکمل ہو جائیں گے۔ اب تک اسرائیل کی اس جنگ کے نتیجے میں 36584 فلسطینی قتل کیے جا چکے ہیں۔ جبکہ زخمیوں کی تعداد 82 ہزار سے متجاوز ہے۔

پروفیسر فنکلسٹائن نے کہا 'میرے خیال میں سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کا حملہ نظر انداز کرنے کے لائق نہیں تھا۔ لیکن جس طرح اسرائیل نے غزہ کے لوگوں کے ساتھ جنگ کے دوران سلوک کیا ہے ، اس کے بعد اسرائیل نے اپنا حق دفاع خود ہی ختم کر دیا ہے۔'

پروفیسر فنکلسٹائن نے سیاسیات کے ایک ماہر کے طور پر اپنے اس انٹرویو کے دوران ایسا واضح، کھلا اور دوٹوک تجزیہ پیش کیا ہے جو کئی برسوں کے دوران ایک مضبوط رائے پیش کرنے کا حوالہ بن گیا ہے۔ انہوں نے اس خصوصی انٹرویو میں کم گفتگو نہیں کی ہے۔ جیسا کہ وہ اپنی سخت گفتگو کے دوران بین الاقوامی فوجداری عدالت اور بین الاقوامی عدالت انصاف کے بارے میں سخت اور فیصلہ کن الفاظ استعمال کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں