عراق: بغداد میں امریکی برانڈز پر حملوں کے پیچھے کون ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

دنیا کے کئی دوسرے ملکوں کی طرح غزہ کی جنگ نے اسرائیلی، امریکی اور یورپی مصنوعات کو بائیکاٹ سے چوٹ لگانے کی مہم عراق میں بھی جاری ہے۔ مگر عراق میں اس کا انداز محض قائل اور تبلیغ کرنے کے انداز میں نہیں ہے۔ اس کا انداز پچھلی کم از کم دو دہائیوں سے عراق میں تبدیل کر دیے گئے سماجی، مذہبی اور سیاسی کلچر کی طرح مختلف یعنی تشدد آمیز ہے۔ اس کلچر کی شروعات اس وقت ہوئیں جب امریکہ کی سی آئی اے نے عراق میں وسیع پیمانے پر انسانی تباہی کے ہتھیاروں بو سونگھی اور عراق پر حملے کی راہ ہموار کر دی۔

اس میں عراقی آمر صدر صدام اور ان کی حکومت کے خاتمے کا ہدف تو حاصل ہوگیا مگر عراق تب سے اب تک بد امنی اور تصادم کی لپیٹ میں چلا گیا۔ مسلح گروہوں کو سر اٹھانے کایسا موقع مل گیا کہ اب یہ عراق کے طول وعرض میں اس کے رگ و پے میں شامل لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عراق کے موجودہ وزیر اعظم محمد الشیعہ السوڈانی بھی عملا ایرانی حمایت یافتہ مسلح گروپوں کی طفیل حکومت میں ہیں۔

عام خیال یہی ہے کہ عراق میں غزہ جنگ میں اب تک ہلاک کر دیے گئے36650 سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکتوں اور غزہ کی تباہی کے خلاف رد عمل دکھانے والے یہی عسکریت پسند گروپ ہیں۔ اس سلسلے میں امریکہ اور اسرائیل و امریکہ کے درمیان دزمنی کی تاریخ کو بھی بنیاد بتایا جاتا ہے۔

علاوہ ازیں بھی غزہ کا ردعمل ہے۔ کیونکہ مذکورہ بالا ملکوں کی مصنوعات کے بائیکاٹ کئی اور ملکوں میں بھی۔ بس فرق یہ ہے کہ عراق میں امریکی کھانے پینے کی اشیا کے برانڈز کو مسلح انداز سے بھی اور بغیر لوٹ مار کے ڈکیتی کے انداز میں بھی نشانہ بنانے کے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔ اس لیے یہ محض بائیکاٹ کہ مہم نہیں اس سے کافی زیادہ ہے۔

لیکن کیا س طرح عراق جیسے مشکل معیشت میں جا چکے ملکوں کے لیے یہ 'افورڈ ایبل' ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے ان ان شکلوں کو خود روک دیں۔ آسان جواب نہیں ہے جو بغیر سوچے سمجھے بھی ہر کوئی دے سکتا ہے۔

بلاشبہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو ترسے ہوئے اور بھوک و افلاس کی زد میں ملکوں کے لیے غیر ملکی سرمائے کی ایک ایک پائی اہم ہے۔ تاہم ناقدین کا سوال اور بھی ہے کہ بھوکوں مرتی عوام کو پیزے کھانے پر مائل یا مجبور کرنے والے سرمایہ کار صرف مقامی غیبوں کو خوشحال کرنے اور ان ملکوں کے زر مبادلہ کے پیٹ کو بھرنے کے لیے ایسا کرتے ہیں یا عملا تھوڑ سرمائے سے زیادہ سرمایہ نکلا لے جانے کی چسکے دار دکان بنائے ہوئے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ یہ غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان ایسے غریب ملکوں میں بھی خوش خوراکی کی مہم کے پیچھے کیوں رہتے ہیں۔ کہیں مقامی خام مال سے مصنوعات بنانے کی طرف کیوں سرمایہ ںہیں لگاتے۔ یہ کہیں ذبح کرکے الٹا ثواب لینے والے غیر ملکی سرمایہ کار تو نہیں۔

ان کی سوچ کیا ہے اور نہیں لیکن یہ طے ہے کہ عراق میں انہیں بائیکاٹ کا سامنا محض ناراضگی کا اظہار کرنے کے لیے نہیں کہ غزہ میں نسل کشی کرنے والے اسرائیل کے اتحادی و سرپرست ہیں۔ بلکہ اس سےبھی آگے کی بات ہے۔

اسی لیے مسلح افراد ایک دو نہیں درجن بھر اکٹھے ہو کر امریکی کے ایف سی، کوکا کولا، پیپسی کولا ،پراکٹر اینڈ گیمبل اور دوسرے فوڈ آؤٹ لیٹس پر حملے کرتے ہیں اور اس طرح کی دوسری دکانوں پر حملہ آور ہوتے ہیں توڑ پھوڑ کرتے ہیں ان فوڈ چینز کے کارکنوں کو پچھلے دروازوں سے بھاگنے پر مجبور کرتے ہیں اور پھر خود بھاگ جاتے ہیں۔ یہ ان کا بائیکاٹ کرنے کی مہم کو شدت دینے کے ساتھ ساتھ ان غیر ملکی اداروں کا اپنے ملک یا شہر سے صفایا کرنے آتے ہیں۔

لیکن امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش میں رہنے والے الشیعہ السوڈانی کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ ان بائیکاٹ والے حملے کعنے والوں میں سے کچھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ کیا ان چند افراد کو گرفتار کر لینا کافی ہو گا۔ کیا یہ چند افراد کی گرفتاری امریکی و مغربی ملکوں کی 'فوڈ چینز' کے سیکیورٹی کے بڑھے ہوئے اخراجات ان کی شاندار اور جاندار منافعوں کو کمزور اور لاغر تو نہیں بنارہے۔ اس کا علاج کیا ہو گا؟

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں