مغربی کنارا، اسرائیلی فوج نے تین فلسطینی ہلاک متعدد زخمی کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر جنین میں ایک کارروائی کر کے تین فلسطینیوں کا ہلاک کر دیا ہے۔ یہ کارروائی جمعرات کے روز کی گئی ہے۔ جس میں تین فلسطینی شہریوں کی ہلاکت کی فلسطینی وزارت صحت نے بھی تصدیق کر دی ہے۔

دوسری جانب فلسطینی ہلال احمر کے مطابق اسرائیلی فوج کی اس کارروائی کے نتیجے میں 13 فلسطینیوں کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔ تاہم اسرائیلی فوج نے اس بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

اسلامی جہاد گروپ کے عسکری ونگ القدس بریگیڈ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے اس کے جنگجووں نے جنین کے پناہ گزین کیمپ کے نزدیک اسرائیلی فوج کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے رپورٹز نے بھی اس علاقے میں اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان تصادم کی رپورٹ دی ہے۔
خیال رہے کہ جنین طویل عرصے سے فلسطینی مزاحمتی گروپوں کا مضبوط مرکز رہا ہے۔ اسرائیلی فوج جنین شہر اور ملحقہ کیمپ میں کارروائی کرتی رہتی ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارا جس پر اسرائیل نے 1967 میں قبضہ کر رکھا ہے، حالیہ ایک سال سے اس مقبوضہ علاقے میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

خاص طور پر جب سے اسرائیل اور حماس کے درمیان 7 اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ میں فلسطینی حکام کے مطابق، غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک اسرائیلی فوجیوں اور آباد کاروں نے اس علاقے میں کم از کم 530 فلسطینی ہلاک کر دیے ہیں۔

اسرائیلی سرکاری اعداد و شمار کے اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق، اسی عرصے کے دوران مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے حملوں میں کم از کم 14 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی سرکاری اعداد و شمار پر مبنی اے ایف پی کی رپورٹ ہے کہ سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر غیر معمولی حملے کے بعد سے غزہ کی پٹی تقریباً آٹھ ماہ سے جنگ کی لپیٹ میں ہے، جس کے نتیجے میں 1,194 اسرائیلی ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ حملہ آور عسکریت پسندوں نے 251 اسرائیلیوں کو یرغمال بھی بنا لیا ہے، جن میں سے 120 غزہ میں باقی ہیں، جن میں سے فوج کے مطابق 41 ہلاک ہو چکے ہیں۔

جبکہ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق، غزہ پر اسرائیل کے فوجی حملے میں اب تک کم از کم 36,654 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر عام شہری، بچے بچیاں اور فلسطینی عوتیں شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں