اسرائیل، حماس پر اپنی پسند مسلط نہیں کر سکتا: اسماعیل ہنیہ

"تحریک کوئی ایسا معاہدہ قبول نہیں کرے گا جس سے فلسطینیوں کو تحفظ حاصل نہ ہو"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

فلسطینی تحریک حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے سنیچر کے روز غزہ کے النصیرات علاقے میں اسرائیلی فوجی حملے کے جواب میں کہا ’’کہ اسرائیل حماس پر اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتا اور گروپ کوئی ایسا معاہدہ قبول نہیں کرے گا؛ جس سے فلسطینیوں کو تحفظ حاصل نہ ہو۔‘‘

فوج نے بتایا کہ اسرائیلی افواج نے ہفتے کے روز وسطی غزہ کے علاقے النصیرات میں دو الگ الگ مقامات سے چار مغوی یرغمالیوں کو زندہ بچا لیا ہے۔

ہنیہ نے اپنے بیان میں کہا، "ہمارے لوگ ہتھیار نہیں ڈالیں گے اور مزاحمت اس مجرمانہ دشمن کے سامنے ہمارے حقوق کا دفاع کرتی رہے گی۔"

انہوں نے مزید کہا، "اگر (اسرائیلی) قابض یہ سمجھتا ہے کہ وہ زبردستی اپنی مرضی ہم پر مسلط کر سکتا ہے تو یہ خام خیالی ہے۔"

حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی پٹی میں کام کرنے والی وزارتِ صحت نے ہفتے کے روز بتایا کہ وسطی غزہ کے نصیرات اور دیگر علاقوں پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 55 فلسطینی جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

دریں اثناء حماس کے سینئر عہدیدار سامی ابو زہری نے رائٹرز کو بتایا، "نو ماہ کی لڑائی کے بعد چار اسیران کو دوبارہ حاصل کرنا کامیابی نہیں ہے بلکہ ناکامی کی علامت ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں