اقوام متحدہ کے سکول پر حملے میں 17 مسلح افراد ہلاک ہوئے: اسرائیل

مزاحمت کار سکول سے کارروائی کر رہے تھے: اسرائیل، حملہ "بغیر پیشگی انتباہ کے" کیا گیا: سربراہ اونروا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے وسطی غزہ میں اقوام متحدہ کے ایک سکول پر فضائی حملے میں 17 مسلح افراد کو ہلاک کیا۔ اس سے قبل اسرائیلی فوج نے نو جنگجوئوں کو مارنے کا دعویٰ کیا تھا۔

جمعرات کو وسطی غزہ کے علاقے نصیرات میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسی اونروا کے زیرِ انتظام سکول کو اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا جہاں ہزاروں بے گھر افراد پناہ گزین تھے۔

قریبی شہدائے الاقصیٰ ہسپتال نے بتایا کہ اس حملے میں کم از کم 37 افراد ہلاک ہوئے۔

فوج نے ایک بیان میں کہا، "ہدف شدہ حملے کے بعد سے (اسرائیلی فوج) نے 17 دہشت گردوں کی شناخت کی تصدیق کی ہے جو سکول سے کارروائی کر رہے تھے۔"

حماس کے میڈیا دفتر نے اسرائیلی فوج پر "غلط معلومات" پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کی جانب سے مردہ قرار دئیے گئے تین افراد بدستور زندہ تھے اور یہ کہ دیگر حملوں میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ نیز اس نے کہا کہ سکول پر حملے میں 14 بچے بھی ہلاک ہو گئے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہگاری نے جمعرات کو کہا تھا کہ سکول کے تین کمروں پر لڑاکا طیاروں کے حملے میں نو عسکریت پسند مارے گئے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جہاد اور حماس کے تقریباً 30 عسکریت پسند وہاں چھپے ہوئے تھے۔

اونروا کے سربراہ فلپ لازارینی نے کہا کہ یہ حملہ "بغیر پیشگی انتباہ کے" کیا گیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا، اونروا "اپنی تمام سہولیات (اس سکول سمیت) کی معلومات کا اسرائیلی فوج اور تنازع کے دیگر فریقوں کے ساتھ اشتراک کرتا ہے"۔

لازارینی نے کہا، "اقوام متحدہ کی عمارات پر حملہ کرنا، انہیں نشانہ بنانا یا فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنا بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔"

یاد رہے کہ سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد غزہ میں اسرائیلی جارحیت کا آغاز ہوا۔ اس جنگ میں اب تک چھتیس ہزار سے زائد فلسطینی لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں