غزہ سے زندہ اسرائیلی قیدیوں کی بازیابی کے بعد بینی گانٹز نےاستعفے کااعلان ملتوی کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی جنگی کابینہ کے رکن بینی گانٹزکی جانب سے آج ہفتے کے روز اپنے ممکنہ استعفے کے اعلان کے حوالے سے اعلان کردہ تقریر ملتوی کردی ہے جس میں وہ جنگی کونسل سے استعفیٰ دینےوالے تھے۔ان کے اس فیصلے کو غزہ کے علاقے النصیرات سے چار اسرائیلی قیدیوں کے زندہ بازیاب کرائے جانے کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔

4 قیدی زندہ بازیاب

اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائی ادرعی نے X پلیٹ فارم پر اطلاع دی کہ "چار اسرائیلی قیدیوں 25سالہ نوا ارگمانی، 21 سالہ الموا میر،27 سالہ آندرے کوزلوف اورچالیس سالہ شلومی زیو کو بازیاب کرالیا گیا ہے۔ انہیں حماس کے جنگجوؤں نے گذشتہ برس سات اکتوبر کو غزہ کےاطراف میں کیے گئے ایک طوفانی حملے میں یرغمال بنا لیا تھا۔ ان کی صحت بہتر ہے‘‘۔

بینی گانٹز نسبتا اعتدال پسند اسرائیلی سیاست دان ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ آج ہفتے کی شام ایک اہم خطاب میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی سربراہی میں قائم جنگی کونسل سے اپنا استعفیٰ پیش کریں گے۔ قبل ازیں انہوں نے وزیراعظم کو غزہ جنگ کے خاتمے کے بعد کے منصوبے کے بارے میں حتمی لائحہ عمل پیش کرنے کی 8 جون کی ڈیڈ لائن دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر وزیراعظم ما بعد جنگ غزہ کے حوالے سے اپنا منصوبہ پیش نہیں کرتے تو وہ جنگی کونسل سے استعفیٰ دے دیں گے۔

خیال رہے کہ آٹھ ماہ سے غزہ میں یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے جاری اسرائیلی جنگ میں یہ پہلا موقع ہے جب فوج چار اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

دوسری طرف بینی گینٹز کی استعفے کی دھمکی بھی نیتن یاھو کے لیے ایک اضافی دباؤ ہے۔ اگر وہ جنگی کونسل سے الگ ہوجاتے ہیں تو نیتن یاھو کو معتدل اسرائیلی سیاست دانوں کی حمایت سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں