نیتن یاہو کی ٹویٹ نے ان کے لیے جہنم کے دروازے کھول دیئے، جانیے کیسے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث گروپوں کی سال 2023 کی عالمی فہرست میں اسرائیلی فوج کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی سفیر گیلاد ایردان کو اس فیصلے کا علم ہوئے چند گھنٹے ہی گزرے تھے کہ اسرائیل غصے سے پھٹ پڑا۔

وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے فوراً اس فیصلے کو شرمناک قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔ انہوں نے کل شام جمعے کو ایکس پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ سے ایک ٹویٹ میں لکھا: ان کے دعوے کے مطابق "حماس کے مضحکہ خیز دعووں کو اپنا کر اقوامِ متحدہ نے خود کو تاریخ کی بلیک لسٹ میں شامل کر لیا ہے۔"

سب سے با اخلاق فوج

انہوں نے یہ بھی کہا، ان کے ملک کی فوج "دنیا کی سب سے با اخلاق فوج ہے اور کوئی بھی فیصلہ اسے تبدیل نہیں کر سکتا۔"

البتہ "با اخلاق ترین" کے جملے نے ان کے لیے گویا (سوشل میڈیا کے) جہنم کے دروازے کھول دیئے کیونکہ اس ٹویٹ پر ہزاروں تبصرہ نگاروں نے تنقید کی ایک وسیع مہم شروع کر دی۔

کئی ٹویٹر صارفین نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجیوں کی شرمناک حرکتوں کی تصاویر اور ویڈیو کلپس کا اشتراک کیا۔

انہوں نے فوجیوں کی وہ تصاویر شائع کیں جن میں وہ بعض اوقات خواتین کے زیر جامے میں ملبوس ہیں یا فلسطینیوں کے گھروں کا سامان خراب کر رہے ہیں۔

کئی صارفین نے اس نام نہاد "با اخلاق فوج" کی گولیوں اور گولوں کی وجہ سے غزہ کی پٹی میں مرنے والے شہریوں کی تعداد کا بھی ذکر کیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک باخبر سفارتی ذریعے نے کل انکشاف کیا کہ حماس اور اسلامی جہاد کی تحریکوں کو بھی اس "شرم کی فہرست" میں شامل کیا جائے گا۔

بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ بچوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کی یہ عالمی فہرست بچوں اور مسلح تنازعات سے متعلق ایک رپورٹ میں سامنے آئی ہے جو 14 جون کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جائے گی۔

گوٹیرس 15 ملکی سلامتی کونسل میں جو رپورٹ پیش کریں گے اس میں قتل، جسمانی اعضاء کاٹنے، جنسی زیادتی، بچوں کو اغوا یا بھرتی کرنے، امداد کی آمد کو روکنے اور سکولوں اور ہسپتالوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔

تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اسرائیلی فوج، حماس یا اسلامی جہاد کو کن خلاف ورزیوں کے لیے درج کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ غزہ کی وزارتِ صحت کے شناخت شدہ لاشوں کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ نے گذشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ غزہ کی پٹی میں آٹھ ماہ کی جنگ کے دوران کم از کم 7,797 بچے جاں بحق ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں