آخری اسرائیلی بھی ہوا تو فلسطینی ریاست کی اجازت نہ دونگا: سابق اسرائیلی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اپنے لائیو بیانات میں سابق اسرائیلی وزیر ایوب قرا نے اعتراف کیا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کو قبول نہیں کریں گے چاہے وہ دائیں طرف کے آخری اسرائیلی ہی کیوں نہ ہوں۔

دائیں بازو کے وزیر نے ’’العربیہ ‘‘ چینل پر راشد نبیل کے پیش کردہ پروگرام ’’ محل نقاش‘‘ میں شرکت کی۔ اس دوران فلسطینیوں کی اپنی ریاست کے قیام کے حق میں اسرائیلی دائیں بازو کی رائے کے متعلق سوال کیا گا تو انہوں نے جواب میں کہا کہ اگر میں دائیں طرف کا آخری اسرائیلی بھی ہوتا تو میں ایسی فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دیتا جس میں حماس موجود ہو۔

سابق اسرائیلی وزیر ایوب قرا سیاست دان ہیں جو کنیسٹ میں لیکود پارٹی کے رکن اور نقب اور الجلیل کے نائب وزیر برائے ترقی رہے ہیں۔ انہوں نے 2019 تک نیتن یاہو کی حکومت میں وزیر برائے پورٹ فولیو اور وزیر مواصلات کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ اپنی شناخت ایک اسرائیلی صیہونی کے طور پر بھی کرتے ہیں۔ ایوب قرا غزہ کے ساتھ علیحدگی کے منصوبے کے مخالف اور مغربی کنارے میں یہودی آباد کاری کی حمایت کرتے ہیں۔

ایوب قرا کا خیال ہے کہ اسرائیل کے پاس امن قائم کرنے والا کوئی نہیں ہے کیونکہ تمام امن شراکت داروں کا مقصد اسرائیل کو کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے اوسلو معاہدے پر بھی تنقید کی اور کہا اس معاہدے سے لبنان اور تیونس میں موجود فلسطینی قیادت کو یہودا و سامرہ (مغربی کنارا ) اور غزہ کی قیادت کرنے کا جواز فراہم کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں