نصیرات حملے کے بعد کسی بھی معاہدے میں مستقل جنگ بندی ناگزیر ہوچکی :ھنیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

حماس کے پولیٹیکل بیوروکے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ وسطی غزہ کی پٹی میں نصیرات کیمپ پراسرائیلی حملے کے بعد اسرائیل کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں جنگ کا مستقل خاتمہ اور پٹی سےاسرائیل کا مکمل انخلا ناگزیر ہوچکا ہے۔

حماس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بات ہنیہ اور ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ انہوں نے غزہ میں میدان جنگ اور سیاسی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔

غزہ پراسرائیلی بمباری 247 ویں روز میں داخل ہونے کے ساتھ ہی مقبوضہ غزہ کی پٹی میں وزارت صحت نے متاثرین کی تعداد کے حوالے سے روزانہ کی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعدا ایک لاکھ اکیس ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

وزارت صحت نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ "اسرائیلی فورسز نے غزہ کی پٹی میں خاندانوں کے خلاف 8 قتل عام کیےجن میں 283 اموات ہوئیں اور 814 زخمیوں کو ہسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے"۔

وزارت صحت نے کہا کہ اسرائیلی فضائی اور زمینی حملے میں کم از کم 274 فلسطینی مارے گئے۔ حماس کے زیر حراست چار یرغمالیوں کی بازیابی کے آپریشن میں ہفتے کے روز "نصیرات" میں تقریباً 700 افراد زخمی ہوئے۔

وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ملبے کے نیچے اور سڑکوں پر اب بھی متعدد زخمی موجود ہیں۔ ایمبولینس اور شہری دفاع کا عملہ ان تک پہنچنے سے قاصر ہے۔

اسرائیلی ذرائع کے مطابق وسطی غزہ میں نصیرات کیمپ میں اسرائیلی آپریشن 7 اکتوبرکے بعد سب سے بڑا آپریشن تھا۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہےغزہ میں اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 37,084 سے زائد فلسطینی ہلاک ہوگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں