شرق اوسط

سلامتی کونسل غزہ میں جنگ بندی کی حمایت میں قرارداد منظور کرے: امریکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

آج سوموار کی شام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل غزہ میں جنگ بندی کی تجویز کی حمایت کرنے کے لیے امریکہ کی طرف سے پیش کی گئی ایک قرارداد کے مسودے پر ووٹنگ کرنے والی ہے، لیکن سفارتی ذرائع کے مطابق اس وقت سلامتی کونسل کی صدارت جنوبی کوریا کے پاس ہے جس نے قرارداد پر رائے شماری کی تصدیق نہیں کی۔

امریکہ نے اتوار کی شام اعلان کیا تھا کہ اس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایک قرارداد کے مسودے پر ووٹنگ کرنے کو کہا ہے جس میں اسرائیل اور حماس سے کہا گیا ہے کہ وہ غزہ میں مجوزہ جنگ بندی پر عمل درآمد کے لیے "بلا تاخیر" اقدامات کریں۔ تاہم امریکہ نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا سلامتی کونسل میں اس قرارداد پر رائے شماری کب ہوگی؟

اقوام متحدہ میں امریکی مشن کے ترجمان نیٹ ایونز نے ایک بیان میں کہا کہ"آج امریکہ نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی مسودہ قرارداد پررائے شماری کرائے اور پچھلے ہفتے امریکی صدر جوبائیڈن کی طرف سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجاویز کی حمایت کرے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "کونسل کے اراکین کو یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیے اور اس معاہدے کی حمایت میں یک آواز ہو کر بات کرنی چاہیے"۔

اس سے قبل دوسرے ممالک کی طرف سے غزہ میں جنگ بندی قراردادوں کو ویٹو کیے جانے پر امریکہ کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مئی کے آخر میں بائیڈن نے ایک منصوبے کا انکشاف کیا جو ان کے بہ قول مجوزہ نکات اسرائیل کی طرف سے بیان کیے گئے تھے۔ اس میں غزہ میں عارضی جنگ بندی سے مستقل امن کی طرف بڑھنے کے لیے تین مراحل پر مبنی تجاویز شامل تھیں۔

امریکی مسودہ قرارداد میں واضح طور پر حماس کو جنگ بندی کی تجویز کی منظوری کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

مسودہ قرارداد کا تیسرا ورژن

مسودہ قرارداد کے تیسرے ورژن کی نقول کل توار کے روز رکن ممالک میں تقسیم کی گئی تھیں۔ اس کی ایک نقل ’اے ایف پی‘ کو موصول ہوئی ہے۔ اس متن میں کہا گیا ہے کہ پچھلے ورژن کے برعکس اسے اسرائیل نےاتفاق کیا ہے۔ متن میں حماس پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ان تجاویز کو قبول کرے۔ ساتھ ہی دونوں متحارب فریقوں سے بلا تاخیر اور غیر مشروط طور پر جنگ بندی معاہدے کو مکمل طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے‘‘۔

تین مراحل پر مشتمل جنگ بندی کی تجاویز میں پہلے مرحلے میں غزہ میں فوری اور مکمل جنگ بندی، حماس کے زیر حراست قیدیوں کی رہائی، فلسطینی قیدیوں کا تبادلہ، غزہ کے آبادی والے علاقوں" سے اسرائیلی فوج کا انخلاء اور امداد کے داخلے کی اجازت دینا شامل ہے۔

متن کے مطابق اگر پہلے مرحلے پر عمل درآمد میں چھ ہفتے سے زیادہ وقت لگتا ہے تو جنگ بندی بات چیت جاری رہے گی برقرار رہے گی۔

سفارتی ذرائع کے مطابق کونسل کے متعدد ارکان نے امریکی متن کے پچھلے دو ورژن پر الجزائر اور روس نے سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

نیتن یاہو کا اصرار

یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی انتظامیہ کے ایک سینیر اہلکار نے پیر کو ’این بی سی‘ نیوز کو بتایا کہ وسطی غزہ کی پٹی میں نصیرات کیمپ میں فوجی کارروائی کے دوران چار یرغمالیوں کی زندہ بازیابی کے بعد نیتن یاھو جنگ روکنے کی تجاویز کے بجائے حملے جاری رکھنے پر اصرار کریں گے۔

غزہ میں وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ نصیرات کیمپ پر اسرائیلی حملے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 274 ہو گئی ہے۔ اس طرح گذشتہ سات اکتوبر سے غزہ میں اسرائیلی بمبار میں 37,84 افراد جاں بحق اور 84,494 زخمی ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن غزہ میں جنگ بندی کی تجاویز کو آگے بڑھانے کے لیے مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں۔ اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں وہ قاہرہ میں مصری صدرسے ملاقات کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ اسرائیل، اردن اور قطر کا دورہ بھی کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں