‘‘نصیرات حملہ سلامتی کونسل وبین الاقوامی حکومتوں کی غزہ جنگ پر بے عملی کا نتیجہ ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے وسطی غزہ کے علاقے نصیرات میں اسرائیلی فورسز کے حالیہ بد ترین حملے کو سلامتی کونسل اور بین الاقوامی حکومتوں کی بے عملی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ اس امر کا الزام ایرانی وزارت خارجہ نے کیا ہے؛ جسے ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے۔

وزارت خارجہ نے کہا 'یہ خوفناک اور حیران کن جرم اسرائیلی فوج نے کیا ہے۔' ان خیالات کا اظہار ایرانی وزارت خارجہ نے اس واقعے میں بمباری سے کی جانے والی تباہی اور ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہوئے کیا۔ خیال رہے اب تک کی اطلاعات کے مطابق اس بمباری میں 274 فلسطینی ہلاک اور 698 زخمی ہو ئے ہیں۔ جبکہ گھروں اور آبادی کی تباہی اس کے علاوہ ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے کہا 'یہ سب بین الاقوامی حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کی طرف سے اسرائیلی جنگ کے خلاف مناسب رد عمل نہ دینے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اس تباہی اور ان ہلاکتوں کی 'ذمہ داری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر بھی عاید ہوتی ہے کہ صہیونی رجیم آٹھ ماہ کی مسلسل جنگ کے دوران غزہ میں انسانی جانوں کے درپے ہے۔ مگر اس کو روکا نہیں جا سکا۔'

واضح رہے حماس نے اس اسرائیلی کارروائی کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 210 اور زخمیوں کی تعداد 400 بتائی ہے۔ اس کارروائی کے دوران اسرائیلی فوج نے پہلی بار اپنے چار یرغمالیوں کو غزہ سے زندہ رہائی دلائی ہے۔

ہفتے کے روز اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ اسرائیلی یرغمالیوں کو نصیرات کے قلب سے چھڑایا گیا ہے۔ جہاں حماس کے عسکری ونگ نے ان یرغمالیوں کو قید کر رکھا تھا۔

اسرائیلی پولیس کے ایک جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے 'ایک اسرائیلی بھی اس آپریشن کے دوران ہلاک ہو گیا ہے۔ ' دوسری جانب حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بد ترین اسرائیلی فوجی حملے کے دوران تین اسرائیلی یرغمالی بھی خود ہی اسرائیلی فوج نے ہلاک کر دیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں