مشرق وسطیٰ

اسرائیلی وزیر اعظم کے چیف آف سٹاف نے وزیر دفاع کو ’بے شرم‘ قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل ایک رنگ برنگی ریاست کے طور پر اس وقت اور نمایاں ہو گئی ہے جب اسرائیلی پارلیمنٹ میں وزیر دفاع نے حکومتی مسودہ قانون کے خلاف ووٹ دے کر انتہا پسند اور کٹر مذہبی یہودیوں کو لازمی فوجی خدمات سے استثنا دینے کی مخالفت کر دی۔

اسرائیلی کنیسٹ میں یہ مسودہ پیر کی شام ووٹنگ کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ لیکن اس وقت وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کے دفتر کے لیے انتہائی تکلیف دہ صورت حال پیدا ہو گئی جب ان کی کابینہ کے اہم رکن اور موجود وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کی طرف سے اس مسودہ قانون کی مخالفت کیے جانے پر وزیر دفاع کو ’’احمق‘‘ اور ’’بے شرم‘‘، تک کہہ دیا۔

اسرائیل کے ایک اخبار نے منگل کے روز اس صورت حال کو رپورٹ کرتے ہوئے لکھا ہے 'اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے چیف آف سٹاف ٹارچی بریو مین نے اس وجہ سے غصے سے یہ تک کہہ دیا کہ یوآو گیلنٹ ایک ’’بے شرم شخص ہے اسے لازماً برطرف کیا جانا چاہیے۔‘‘

اہم بات یہ ہے کہ مخلوط حکومت کے حامی 64 ارکان میں وزیر دفاع وہ واحد رکن پارلیمنٹ ہیں جنہوں نے اس مسودہ قانون کی مخالفت میں ووٹ دیا ہے۔ یوں پارلیمنٹ میں اس استثنا دیے جانے سے متعلق قانون کے حق میں 63 اور مخالفت میں 57 ووٹ پڑے ہیں۔

اگرچہ پارلیمنٹ کے موجودہ کل 120 ارکان کی اکثریت نے اس مسودہ کے حق میں ووٹ دیا ہے لیکن وزیر دفاع کے مخالفت میں آنے والے ووٹ سے اس استثنائی قانون کی اخلاقی حیثیت مزید کمزور ہو گئی ہے۔ یوآو گیلنٹ کے اس رویے کی وجہ سے مخلوط حکومت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ نیز اسرائیل کی غزہ میں جنگ لڑنے والی اعلیٰ اسرائیلی قیادت کے باہمی اختلافات بھی ایک بار پھر سامنے آ گئے ہیں۔

اس وجہ سے ووٹنگ کے بعد وزیر اعظم کے وزیر دفاع کے بارے میں جذبات کو ان کے دفتر نے خوب غصے کے ساتھ ظاہر کر دیا۔

پارلیمنٹ میں 63 اکثریتی ووٹ ملنے کے بعد اس مسودہ قانون کو پارلیمنٹ پھر اسی نکتے سے دوبارہ دیکھ سکے گی جہاں پر 2022 میں اسے چھوڑنا پڑا تھا۔ اس مسودہ کی حتمی منظوری کے لیے ابھی کچھ اہم مراحل باقی ہیں، جن میں خارجہ امور کمیٹی اور پارلیمنٹ کی سکیورٹی کمیٹی میں پیش کر کے اس کی رائے اور منطوری لینے کے علاوہ دوسری اور تیسری خواندگی کر کے پارلیمنٹ سے منظوری لینا ہو گی۔

ایک اسرائیلی ویب سائٹ میں اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ مسودہ قانون دوسری اور تیسری خواندگی کے لیے تیار ہے۔ ضابطے کے تحت کسی بھی مسودہ قانون کی تیسری خواندگی کے بعد ہی اس کی حتمی منظوری دی جاتی ہے اور پھر یہ قانون کا درجہ پاتا ہے۔

یائر لیپڈ کا تبصرہ

پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے کہا 'حکومت کے لیے یہ وقت کنیسٹ میں دیکھے گئے ذلت کے بدترین وقتوں میں سے ایک وقت ہے۔'

انہوں نے مزید کہا 'غزہ کی پٹی میں ایک اور دن کی شدید لڑائی کے درمیان، بدعنوان حکومت نے فوجی سروس میں چوری اور اس سے انکار کا قانون پاس کیا۔ یہ سب اخلاق سے عاری سیاست کے لیے کیا جا رہا ہے۔' گانٹز کے استعفیٰ کے بعد اسرائیلی حکومت کو یہ برا دن پارلیمنٹ میں اس وقت دیکھنا پڑا ہے جب جنگی کابینہ کے ایک اہم رکن بینی گانٹز کا استعفیٰ سامنے آئے ہوئے محض ایک دن گزرا ہے۔

واضح رہے بینی گانٹز نے 2022 میں اس بل کی حمایت کی تھی اور وہ اس کے پیش کار تھے مگر وہ اب اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں