جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے میں شہری ہلاک

لبنان میں ایک اسرائیلی ہرمز ڈرون مار گرایا: حزب اللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

لبنان کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ سرحد پار تشدد میں اضافے کے ساتھ منگل کے روز ملک کے جنوب میں اسرائیلی حملے میں ایک شہری ہلاک ہو گیا جس کے بارے میں پانی کی مقامی کمپنی نے کہا کہ وہ وہاں ملازم تھا۔

ایرانی حمایت یافتہ تحریک حزب اللہ نے ایک اسرائیلی ڈرون مار گرایا جس کے چند گھنٹے بعد گروپ نے کہا کہ مشرقی لبنان میں راتوں رات ہونے والے حملوں میں اس کے تین مزاحمت کار ہلاک ہو گئے جس کے بعد اس نے ایک اسرائیلی فوجی پوزیشن کو نشانہ بنایا۔ اس بیان کے بعد شہری کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا۔

سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی نے کہا کہ اسرائیلی سرحد پر واقع ساحلی قصبے ناقورۃ میں "دشمن کے ڈرون نے حملہ کیا" اور بعد میں اطلاع دی کہ اس حملے میں "شدید زخمی ہونے والا ایک شہری" ہلاک ہو گیا تھا۔

ایجنسی نے جنوبی لبنان کے واٹر سٹیبلشمنٹ کی طرف سے ایک بیان شائع کیا جس میں اعلان کیا گیا کہ اس کا ایک ملازم ناقورۃ میں اس وقت ہلاک ہو گیا "جب وہ پانی کی فراہمی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے اپنا فرض ادا کر رہا تھا۔"

بیان میں سرکاری اور بین الاقوامی اداروں پر زور دیا گیا کہ وہ اس حملے کی مذمت کریں اور اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ وہ "اہم اور امدادی شعبے کے ملازمین اور کارکنوں پر حملے فوری طور پر بند کرے۔"

اس دوران حزب اللہ نے اپنے تین مزاحمت کاروں کی ہلاکت کا اعلان کیا جبکہ گروپ کے ایک قریبی ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ مشرقی لبنان کے علاقے ہرمل میں راتوں رات ہلاک ہوئے۔

اے ایف پی کے ایک نامہ نگار نے بتایا کہ ہرمل کے علاقے میں ایک عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

شیعہ مسلم تحریک نے منگل کے روز اسرائیلی فوجیوں اور ٹھکانوں پر کئی حملوں کا دعویٰ کیا جن میں دو حملے مشرقی اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے "جواب میں" ہوئے۔

حماس کی اتحادی لبنان کی حزب اللہ کا اسرائیلی افواج کے ساتھ تقریباً روزانہ فائرنگ کا تبادلہ ہوتا ہے جب سے غزہ میں جنگ شروع ہوئی ہے اور حالیہ ہفتوں میں کشیدگی میں شدت آئی ہے۔

'ٹینکر کا قافلہ'

پیر کو حزب اللہ نے کہا کہ اس نے لبنان کی فضا میں ایک اسرائیلی ہرمز ڈرون مار گرایا تھا۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ راتوں رات اس کے لڑاکا طیاروں نے حزب اللہ کے لاجسٹک ری انفورسمنٹ یونٹ کے فوجی احاطے کو نشانہ بنایا۔

اس نے ایک بیان میں کہا، "یہ یونٹ لبنان میں اور لبنان سے باہر ہتھیاروں کی سمگلنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔" اور مزید کہا کہ اس نے مشرقی لبنان کے علاقے بعلبک میں دو اہداف کو نشانہ بنایا جو وادی بیکا میں واقع حزب اللہ کا گڑھ ہے۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے راتوں رات جنوبی لبنان میں بھی حملہ کیا اور مزید کہا کہ یہ حملے پیر کو اس کا ایک ڈرون مار گرانے کے بعد ہوئے۔

برطانیہ میں قائم جنگی نگران سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن نے کہا کہ "اسرائیلی حملے" نے "شام کی سرحد پر لبنان میں داخل ہونے والے ٹینکروں کے قافلے کو نشانہ بنایا۔"

انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کے ساتھ کام کرنے والے کم از کم تین شامی ہلاک ہو گئے اور مزید کہا کہ لبنانی مزاحمت کار گروپ اس علاقے میں سرحد کے دونوں اطراف کو کنٹرول کرتا ہے جہاں حملہ ہوا۔

حزب اللہ برسوں سے شام کی 2011 میں شروع ہونے والی خانہ جنگی میں صدر بشار الاسد کی جانب سے لڑتی رہی ہے۔

اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق آٹھ ماہ سے زائد سرحد پار تشدد کے نتیجے میں لبنان میں کم از کم 463 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر مزاحمت کار ہیں لیکن تقریباً 90 شہری بھی شامل ہیں۔

سرحد کی اسرائیلی جانب فوج کے مطابق کم از کم 15 فوجی اور 11 شہری مارے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں