جنگ بندی کی تجویزمیں حماس کی تباہی اوریرغمالیوں کی رہائی کی اجازت ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کے ایک سرکردہ عہدیدار نےکہا ہے کہ غزہ کی صورتحال سے متعلق تازہ ترین تجویز سے اسرائیل کو جنگ کے خاتمے سے قبل اپنے تمام اہداف حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔

’مقاصد کا حصول‘

انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنے تمام اہداف کے حصول سے پہلے جنگ کا مکمل خاتمہ نہیں کرے گا۔ حماس کی تمام فوجی صلاحیتوں کو ختم کرنا ہے،غزہ میں اس کی حکمرانی ختم کرنا اور تمام یرغمالیوں کی رہائی اسرائیل کے اہم اہداف میں شامل ہیں۔

اسرائیلی عہدیدار نے کہا کہ تل ابیب اس بات کو یقینی بنائے گا کہ مستقبل میں غزہ اسرائیل کے لیے کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔

نام ظاہر نہ کرنے شرط پر اسرائیلی عہدیدار کا کہنا تھا کہ "مجوزہ تجویز اسرائیل کو اس کے اہداف کے حصول کے قابل بناتی ہے اور اسرائیل واقعتا ایسا ہی کرے گا"۔

حماس کا سلامتی کونسل کی قرارداد کا خیر مقدم

دوسری جانب حماس نے غزہ میں جنگ بندی سے متعلق سلامتی کونسل کے فیصلے کو قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حماس کے سرکردہ رہ نما سامی ابو زہری نے ’رائیٹرز‘ نیوز کو بتایا کہ ان کی جماعت مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

ابو زہری نے وضاحت کی کہ حماس اسرائیلی افواج کے غزہ سے اخلاء، فلسطینی قیدیوں کے بدلے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور مستقل جنگ بندی کی تجویز سے متفق ہے۔

’امید کی کرن‘

درایں اثناء امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی حمایت میں حماس کے بیان کو "امید افزا" قرار دیا ہے۔

بلنکن نے کہا کہ سب سے اہم بات غزہ کی پٹی میں حماس کی قیادت کا موقف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے پیر کو دس دن قبل صدر جو بائیڈن کے ذریعہ پیش کردہ امریکی تجویز سے قبول کرنےکا عندیہ دیا تھا۔

بلنکن نے وضاحت کی کہ غزہ میں ما بعد جنگ کے منصوبوں پر ہونے والی بات چیت اگلے دو دن کے دوران جاری رہے گی۔ ان منصوبوں کا ہونا ضروری ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں