پانچ ماہ میں پہلی بار اسرائیل نے حیفا کی فضاء میں ڈرون مار گرایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ شمالی اسرائیل کے ساحلی شہر حیفا پر ممکنہ میزائل حملے کے بارے میں خبردار کرنے کے لیے سائرن بجائے گئے۔

العربیہ/الحدث کے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ گذشتہ جنوری کے بعد پہلی بار حیفا پر کسی ڈرون کو روکا گیا ہے۔

اسرائیلی ویب سائٹ 'وائی نیٹ' نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ یہ واقعہ حیفا شہر پر آخری حملے کے 5 ماہ بعد پیش آیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا کہ اس نے حیفا کے ساحل سے ایک "مشتبہ فضائی ہدف" کو روکا ہے، لیکن بعد میں واضح کیا کہ انتباہات "غلط نشاندہی" کا نتیجہ تھیں۔

اسرائیلی فوجی ترجمان اویچائی ادرعی نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پراپنے اکاؤنٹ کے ذریعے لکھا کہ "آخری گھنٹے میں فضائی دفاع نے ایک مشتبہ ہوائی ہدف کو روکا جو حیفا کے ساحل پر سمندر کے اوپر پایا گیا تھا۔ وہاں الارم فعال نہیں تھے۔ اس واقعے سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔"

ادھر اسرائیلی میڈیا نے بتایا کہ بالائی الجلیل اور گولان میں سائرن مسلسل بجتے رہے۔

کروز میزائل

گذشتہ ماہ کے آغاز میں عراقی مسلح دھڑوں نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے اسرائیل میں حیفا کی بندرگاہ کو جدید کروز میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔

7 اکتوبر کو محصور فلسطینی پٹی پر اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد بہت سے مسلح دھڑوں اور ایران نواز ملیشیاؤں نے اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے حملے کیے ہیں۔ یہ گروپ اپنے آپ کو ’مزاحمت کے محور‘ قرار دیتے ہیں جن میں یمن کے حوثی،لبنانی حزب اللہ، عراق اور شام میں موجود مسلح دھڑے شامل ہیں جو حماس کی حمایت میں اسرائیلی مفادات کو نشانہ بناتے ہیں۔

حوثیوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں کے خلاف 100 سے زائد حملے کیے، جس کی وجہ سے اس بین الاقوامی سطح پر اہم سمندری گذرگاہ میں نیوی گیشن پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں