شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری: الحرمین الشریفین کی میراث کا تاریخی بیان ہے

مصری فوٹوگرافر احمد پاشا حلمی کی الحرمین الشریفین کی تقریباً 365 تصاویر پہلی مرتبہ شائع ہو رہی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

حج سیزن کے جلو میں شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری اپنے قلمی نسخہ جات اور تصاویر کو محفوظ کرنے کا کام پوری تندہی سے جاری رکھے ہوئے ہے جو حج کی شاندار ثقافت اور تاریخ پیش کرتی ہیں۔

شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری نادر نمونوں بشمول تاریخی تصاویر پر مشتمل علم کا ایک خزینہ ہے جو اسلام میں الحرمین الشریفین کی گہری اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔

جیسا کہ دنیا بھر کے زائرین حج کے روحانی سفر پر جانے کی تیاری کر رہے ہیں تو لائبریری جستجو کے خواہشمند افراد کے لیے تعلیمی وسائل پیش کرتے ہوئے روشنی کی کرن کا کام دیتی ہے۔

لائبریری میں 6,000 سے زائد اشیاء ہیں جن میں قلمی نسحہ جات، کتب، سِکے، نقاشی کے نمونے اور تصاویر شامل ہیں۔ (فراہم کردہ)
لائبریری میں 6,000 سے زائد اشیاء ہیں جن میں قلمی نسحہ جات، کتب، سِکے، نقاشی کے نمونے اور تصاویر شامل ہیں۔ (فراہم کردہ)

یہاں موجود 6,000 سے زائد اشیاء لائبریری کے ڈیٹا بیس کے اثاثہ جات کا بھی حصہ ہیں۔

کتب خانہ کے پاس مناسکِ حج سے متعلق موجود قلمی نسخہ جات میں محمد الحلبی کی "مناسکِ حج پر سنہری نظم" اور بہاء الدین الحارثی الذہبی کی 1622 میں لکھی گئی "سوانح الحجاز" شامل ہیں۔

لائبریری نے حج اور الحرمین الشریفین کے بارے میں متعدد کتابیں شائع کی ہیں جن میں "A Japanese in Makkah" بھی شامل ہے جس کا ترجمہ اور اس پر تبصرہ ڈاکٹر سمیر ابراہیم اور سارہ تاکاہاشی نے کیا ہے۔

شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری نادر نمونوں بشمول تاریخی تصاویر پر مشتمل علم کا ایک خزینہ ہے جو اسلام میں حرمین الشریفین کی گہری اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ (فراہم کردہ)
شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری نادر نمونوں بشمول تاریخی تصاویر پر مشتمل علم کا ایک خزینہ ہے جو اسلام میں حرمین الشریفین کی گہری اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ (فراہم کردہ)

دیگر کتابوں میں زینب کوبولڈ کی تحریر کردہ "پیلگریمیج ٹو مکہ" اور احمد مرزا کی "الحرمین الشریفین اور حج کے پہلوؤں کو حج کی نگاہ سے دیکھنا" شامل ہیں۔ احمد مرزا حج کی عکاسی کرنے والے پہلے ہندوستانی پیشہ ور فوٹوگرافر سمجھے جاتے ہیں۔ مرزا نے 1907 میں حج کیا۔ 240 صفحات پر مشتمل اس کتاب میں پرانے نقشوں، قدیم خاکوں اور نقاشی کے نمونوں اور تصاویر میں الحرمین الشریفین کا تعارف شامل ہے۔

لائبریری کے جنرل سپروائزر فیصل بن عبدالرحمٰن بن معمر نے کہا: "آج ہم علم کے دور میں رہتے ہیں۔ اس میں ثقافت، ادب، زبانوں، سائنس یا معیشت کا کوئی ایک شعبہ شامل نہیں ہے۔ یہ ایسی دنیا کا ایک جامع نظام ہے جہاں ٹیکنالوجی اور متنوع تکنیکی آلات فروغ پا رہے ہیں جو ہمیں پڑھنے پر پوری توجہ دینے کی ترغیب دیتے ہیں۔"

لائبریری میں 6,000 سے زائد اشیاء ہیں جن میں قلمی نسحہ جات، کتب، سِکے، نقاشی کے نمونے اور تصاویر شامل ہیں۔ (فراہم کردہ)
لائبریری میں 6,000 سے زائد اشیاء ہیں جن میں قلمی نسحہ جات، کتب، سِکے، نقاشی کے نمونے اور تصاویر شامل ہیں۔ (فراہم کردہ)

فوٹوگرافر حلمی کو مصر کے شاہ فاروق نے شاہ عبدالعزیز کے مکہ میں داخلے کے دوران الحرمین الشریفین کی عکاسی کرنے کا کام سونپا تھا۔

شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری نادر نمونوں بشمول تاریخی تصاویر پر مشتمل علم کا ایک خزینہ ہے جو اسلام میں حرمین الشریفین کی گہری اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ (فراہم کردہ)
شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری نادر نمونوں بشمول تاریخی تصاویر پر مشتمل علم کا ایک خزینہ ہے جو اسلام میں حرمین الشریفین کی گہری اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ (فراہم کردہ)

لائبریری نے 2009 کی فلم "مکہ کا سفر: ابنِ بطوطہ کے نقشِ قدم پر" کی بھی نمائش کی جس میں مناسکِ حج اور الحرمین الشریفین کی تعمیر کے لیے مملکت کی کوششیں دکھائی گئی ہیں۔

14ویں صدی میں ابنِ بطوطہ کے مکہ مکرمہ کے سفر سے متأثر ہونے والے 24 ممالک کے 2,000 سے زائد افراد نے اس منصوبے میں حصہ لیا۔

یہ فلم کئی بین الاقوامی شہروں جیسے لندن، پیرس، نیویارک اور سنگاپور میں نمائش کے لیے پیش کی گئی اور اسے تین فلمی میلوں میں ایوارڈز ملے ہیں جن میں نیویارک شہر میں ٹرائیبیکا فلم فیسٹیول میں ایک انعام بھی شامل ہے۔

لائبریری کے بحالی مرکز کا آغاز 21 جون 2022 کو کیا گیا جس میں بنیادی توجہ نایاب اور قیمتی ثقافتی نمونوں کو جراثیم سے پاک کرنے، بحال کرنے، سلائی اور جلد سازی اور محفوظ کرنے پر دی گئی۔

ان کی بحالی کی کوششیں صرف اشیاء کو ٹھیک کرنے تک محدود نہیں بلکہ یہ ان کی طویل مدتی حفاظت اور رسائی کے لیے مثالی حالات بھی پیدا کرتی ہیں۔

یہ مرکز لائبریری سمیت مختلف اداروں کے پاس موجود نایاب ثقافتی ورثے کی اشیاء مثلاً دستاویزات، قلمی نسخہ جات، کتابیں، قرآن، تصاویر، نقشہ جات، رسائل، سکے اور نوادرات کے تحفظ اور بحالی پر کام کرتا ہے۔

لائبریری کے عملے کی باریک بینی سے تحفظ کی کوششیں اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ آئندہ نسلیں فن اور ادب کے ان انمول کاموں تک رسائی حاصل کر سکیں۔

حج کی ثقافت ایک ہمہ گیر اور پر رونق دیوار گیر منقش پردے کی مانند ہے جو مسلسل ارتقا پذیر ہے اور شاہ عبدالعزیز پبلک لائبریری اس مقدس روایت کی پائیدار میراث کا ثبوت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں