نصیرات آپریشن اسرائیل نے امریکی نصرت سے کیا ؟ پینٹاگون کی تردید

فلسطینی ہلال احمر نے امدادی ٹرکوں کا استعمال سنگین قرار دیدیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

غزہ کی پٹی کے علاقے نصیرات میں اسرائیلی فورسز کی بد ترین کارروائی کے باعث سوشل میڈیا پر کئی خبریں چلتی رہیں کہ اس کارروائی میں غزہ کے ساحل پر حال ہی تعمیر کردہ بندرگاہ نما گھاٹ کو بھی بروئے کار لایا گیا ہے، اسے امریکہ نے حالیہ مہینوں میں ہی امریکی صدر جو بائیڈن کے ایک اعلان کے بعد ہنگامی بنیادوں پر تعمیر کیا ہے۔

سوشل میڈیا کی خبروں میں یہ چیز پیش کی گئی اس بندرگاہ کو اسرائیلی فورسز نے نصیرات آپریشن کے لیے استعمال کیا ہے۔ واضح رہے اسرائیلی فوج نے نصیرات آپریشن کے بارے میں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ اس کارروائی میں اسرائیلی بحریہ اور فضائیہ نے بھی زمینی فوج کے ساتھ ساتھ حصہ لیا۔

اس سے یہ تاثر مزید گہرا ہوا کہ کیا امریکہ کی نئی تعمیر کردہ بندرگاہ اسی مقصد کے لیے تو نہیں تھی کہ اسرائیلی فوج کو غزہ کے لیے بحری کمک بھی دستیاب ہو اور امریکی پینٹاگون کی مدد سے دستیاب رہے۔ یقیناً امریکہ کی غزہ سے متصل اس عارضی بندر گاہ کو امریکی پینٹا گون نے ہی تعمیر کیا ہے اور اس کا کنٹرول بھی امریکہ کا کوئی نجی ادارہ نہیں بلکہ پینٹاگون ہی کے پاس ہے۔

سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں یا قیاس آرائیوں کو اس سے بھی مدد ملی ہو گی کہ کچھ ہفتے پہلے برطانیہ نے اس امریکی بندر گاہ پر اپنی بحری فوج کی خدمات دینے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا اگر ضرورت ہوئی تو سول کنٹریکٹرز قسم کے لوگوں کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

ایک چھوٹی، عارضی اور خالص انسانی بنیادوں پر امدادی ترسیل کے لیے بنائے گئے اس گھاٹ کو کسی مانے ہوئے امدادی ادارے کے حوالے کرنے کے بجائے دنیا کی بہترین امریکی فوج اور برطانیہ کی ضرورت کیوں درپیش رہ سکتی ہے۔ جبکہ عام بندر گاہوں کا آپریشن غیر فوجی ادارے ہی عام طور پر کرتے ہیں۔ یوں سوشل میڈیا پر قیاس آرائیوں اور سوالات کا جواز آگے سے آگے بڑھتا رہا۔ جس کی امریکی پینٹاگون حکام نے اب تردید کی ہے کہ یہ تاثر غلط ہے۔

تاہم امریکی حکام کی اس تردید میں یہ ضرور موجود ہے کہ اس دوران جب نصیرات میں اسرائیلی آپریشن چل رہا تھا اسرایلی ہیلی کاپٹر اسی امریکی بندر گاہ کے ارد گرد ضرور اڑتے نظر آئے۔ ان کا مقصد محض موسم کا مزا لینا تھا جس طرح کے سمنری لہروں پر کبھی کبھی آبی مخلوق کا شکار لے اڑنے والے پرندے اڑتے نظر آتے ہیں یا اسرائیلی ہیلی کاپٹر کسی فوجی مشن پر تھے۔ اس بارے میں امریکی تردید میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ البتہ پینٹا گون نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ نصیرات آپریشن میں یہ امریکی بندر گاہ کام آئی ہے۔ نہ ہی امریکی فوج کے کسی اہلکار نے نصیرات آپریشن میں حصہ لیا ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان میجر جنرل پیٹرک رائیڈر نے جب سوشل میڈیا کی خبروں کو غلط قرار دیا تو یہ بھی کہا ' اسرائیلی ہیلی کاپٹرز اس بندر گاہ کے علاقے میں اس کے قریب تر اڑتے رہے۔' مگر کیوں؟ اس کا کوئی ٹھوس جواب اس تردید میں میجر جنرل نے دینے کی کوشش نہیں کی ہے۔

اس بارے میں امریکی فوجی ترجمان نے قیاس آرائی سے ہی کام لیا ہے 'میرا خیال ہے یہ اتفاقی واقعہ تھا۔ ' انہوں نے ایک بار پھر تردید پر زور دیتے ہوئے کہا 'بندر گاہ کے آلات اور اہلکاروں جو انسانی بنیادوں پر امدادی کارروائیوں کو دیکھتے ہیں انہیں نے اسرائیلی آپریشن میں کوئی کردار ادا نہیں کیا ہے۔

پینٹاگون کی اس پر زور تردید کے بعد سوشل میڈیا کے اثرات کم ہوتے ہیں یا نہیں۔ مگر امریکی ترجمان پوری طرح واضح ہیں کہ وہ کچھ اطلاعات اور خبروں کو مسترد کرتے ہیں۔ کیونکہ بندر گاہ کے آلات اور اہلکاروں میں سے کوئی بھی اسرائیلی آپریشن میں کام نہیں آیا ہے۔ اس لیے ایسا کوئی بھی دعوٰی غلط ہے۔ خیال رہے اس نصیرات آپریشن میں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 274 فلسطینی کام آئے۔

بندر گاہ سے متعلق جو اطلاعات امریکی ذرائع سے ہی سامنے آئی ہیں وہ بھی دلچسپ ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس بندر گاہ سے سامان کی ترسیل کو امریکی ادارے ' ورلڈ سینٹرل کچن ' نے احتجاج کرتے ہوئے اس وقت اپنے آپریشن روک دیے تھے جب اسرائیلی فوج نے اس کے ٹیم کے ارکان کو ڈرون حملے میں نشانہ لے کر ہلاک کر دیا تھا۔ ان احتجاج کے دنوں میں یہ بندرگاہ کسی کے کام آئی یا نہیں کچھ خبر نہیں۔

اس کے بعد پھر ایک بار اس بندر گاہ سے کام روک دیا گیا ۔ جسے ہفتے کے روز دوبارہ بحال کیا گیا۔ امدادی سامان کی ترسیل کا یہ سلسلہ بھی دو ہفتے رہا تھا۔ مگر اہم بات ہوئی کہ ہفتے کے روز بندر گاہ سے امدادی کام لیا گیا اور اگلے ہی روز اتوار کو پھر روک دیا گیا۔ امریکی فوج کی 'سینٹ کام ' کے مطابق ہفتے کے روز 492 ٹن سامان بندر گاہ سے غزہ کے لیے لایا گیا۔ لیکن یہ سلسلہ ہفتے کے روز ہی ممکن ہوا ۔

میجر جنرل رائیڈر نے مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج کے کردار کے بارے میں گمراہ کن معلومات کے پھیلے کو تسلیم کیا لیکن انہوں نے پورے اطیمنان سے کہا 'ان پھیلی ہوئی غلط فہمیوں سے کہ اسرائیلی فوج بندرگاہ کو استعمال کر رہی ہے کے باوجود امریکی افواج کے لیے خطرات میں اضافہ نہیں ہوگا۔ کیونکہ امریکہ کے پاس کسی بھی ممکنہ میزائل حملے سے بچانے کے لیے فضائی دفاعی نظام موجود ہے۔' ان کا کہنا تھا' مجھے نہیں لگتا کہ اس سے ہماری افواج کے لیے خطرہ بڑھ جائے گا۔'

نصیرات آپریشن اور امدادی ٹرک کا استعمال

سوشل میڈیا سے ہٹ کر بھی کچھ باتیں ایسی سامنے آئی ہیں جو امریکہ کی عارضی بندر گاہ کے بارے میں الجھاوا بڑھاتی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی نے پیر کے روز کہا کہ اسرائیلی فورسز نے ہفتے کے آخر میں اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے کے آپریشن کے دوران وسطی غزہ میں نصیرات کیمپ میں دراندازی کے لیے امدادی ٹرکوں کا بھی استعمال کیا۔

فلسطینی ہلال احمر کے بیان می مزید کہا گیا ' اسرائیلی افواج نے لوگوں کو دھوکہ دیا اور اپنے آپ کو اس امداد کے ساتھ بھیس بدل کر آئے۔ جس کے لیے شہری ترستے ہیں کیونکہ وہ خطرناک سطح پر خوراک کے عدم تحفظ کا شکار ہیں۔' تاہم اچھی بات اس معاملے یہ رہی کہ ہفتے کے روز فلسطینی ہلال احمر نے اس امداد کے بارے میں کوئی سوال نہیں اٹھایا کہ وہ غزہ میں کب اور کیسے پہنچی یا ہفتے کے بعد بندر گاہ امداد کے لیے کیوں چالو یا دستیاب نہ رہی۔

اگر فلسطینی ہلال احمر امریکی بندر گاہ پر ہفتے کے روز اتاری جانے والی 492 ٹن امدادی سامان کے اتارنے کی پینٹاگونی خبر کا ذکر کر دیتا تو سوشل میڈیا کو نیا موضوع مل جاتا ہے کہ پھر اتوار کے روز امداد اتارنے کا یہ سلسلہ بند کیوں رہا اور ہفتے کے روز کی امداد کب اور کہاں تقسیم ہوئی۔

لیکن فلسطینی ہلال احمر نے یہ زور دے کر کہا کہ اسرائیل کی' یہ کارروائی امدادی عملے کی حفاظت کو خطرے میں ڈالتی ہے۔ ' اس نصیرات آپریشن میں اسرائیل اپنے چار یرغمالیوں کو زندہ چھڑانے میں کامیاب رہا جبکہ اس کے اپنے ہاتھوں تین یرغمالی ہلاک بھی ہو گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں