"یرغمالیوں کی رہائی کےدوران اسرائیل کے ہاتھوں غزہ میں شہری ہلاکتیں جنگی جرم کےمترادف"

"کیا اسرائیلی کارروائی میں جنگی قوانین کا احترام کیا گیا؟" جیریمی لارنس کا سوال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے منگل کے روز کہا ہے کہ غزہ میں چار یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کی گئی اسرائیلی کارروائی کے دوران شہریوں کی ہلاکتیں اور مسلح گروہوں کی جانب سے گنجان آباد علاقوں میں قیدیوں کو رکھنا جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔

اسرائیل نے کہا کہ فضائی حملے کے ہمراہ یہ کارروائی ہفتے کے روز وسطی غزہ کے علاقے نصیرات کے رہائشی محلے کے قلب میں ہوئی جہاں حماس نے یرغمالیوں کو دو الگ الگ اپارٹمنٹ عمارات میں رکھا ہوا تھا۔

غزہ کے محکمۂ صحت کے حکام کے مطابق اس کارروائی میں 270 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو گئے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے ترجمان جیریمی لارنس نے کہا، "ایسے گنجان آباد علاقے میں جس طرح چھاپہ مارا گیا تو سنجیدگی سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسرائیلی افواج نے امتیاز، تناسب اور احتیاط کے اصولوں کا احترام کیا جو جنگی قوانین کے تحت وضع کیے گئے ہیں۔"

لارنس نے مزید کہا، مسلح گروہوں کا یرغمالیوں کو اتنے گنجان آباد علاقوں میں قید رکھنا " اس دشمنی کی وجہ سے فلسطینی شہریوں کے ساتھ ساتھ خود یرغمالیوں کی جانوں کو بھی مزید خطرے سے دوچار کر رہا ہے۔"

انہوں نے کہا، "فریقین کی طرف سے یہ تمام کارروائیاں جنگی جرائم کے مترادف ہو سکتی ہیں۔"

اسرائیل کے اعداد و شمار کے مطابق ساحلی انکلیو میں 116 یرغمالی بدستور باقی ہیں جن میں سے کم از کم 40 کو اسرائیلی حکام نے غیر حاضری میں مردہ قرار دے دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں