.

عراق میں امریکی فوجیوں کے زیراستعمال ائیربیس پر راکٹ حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں امریکی فوجیوں کے زیراستعمال عین الاسد ائیربیس پراتوار کے روز ایک اور راکٹ حملہ کیا گیا ہے۔

اس حملے سے 10 روز قبل امریکا نے عراق میں اپنے فوجیوں یا شہریوں پر اس طرح کی راکٹ باری یا ڈرون حملوں میں ملوّث افراد کے بارے میں اطلاع دینے والے شخص کے لیے 30 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔

عراق میں 2019ء سے امریکا کی تنصیبات یا اس کے زیراستعمال فوجی اڈوں پر راکٹ حملے جاری ہیں۔اس سال کے آغاز کے بعد سے بغداد میں امریکی سفارت خانے پر 43 حملے کیے جاچکے ہیں۔اس کے علاوہ امریکی فوجیوں کے اڈوں اور انھیں سامان مہیا کرنے والے عراقی قافلوں کو بھی راکٹ یا میزائل حملوں میں نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

مغربی صوبہ الانبار میں واقع عین الاسد ائیربیس پر اس سے پہلے تین مارچ کو دس راکٹ داغے گئے تھے۔اس حملے میں اتحادی فورسز کے ساتھ کنٹریکٹر کے طور پرکام کرنے والا ایک امریکی شہری دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہوگیا تھا۔

اس راکٹ حملے میں تین گاڑیاں استعمال کی گئی تھیں اور ان سے اس فوجی اڈے پر کاتیوشا راکٹ فائر کیے گئے تھے۔واضح رہے کہ امریکا نے فروری میں عراق اور شام کے درمیان واقع سرحد پر ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کے ٹھکانے کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا تھا۔اس کے بعد عراق میں امریکا کی تنصیبات پر حملوں میں تیزی آئی تھی۔

امریکا ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا گروپوں پر عراق میں اپنی تنصیبات اور فوجیوں پر راکٹ اور ڈرون حملوں کے الزامات عاید کرتا رہتا ہے۔عراق میں ایران کی حامی ملیشیاؤں کے جنگجو آئے دن امریکا کی تنصیبات اور فوجی اڈوں پر راکٹ داغتے رہتے ہیں یا بارود سے لدے ڈرونز سے حملے کرتے رہتے ہیں مگر آج تک کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔