فلسطینی روایتی لوک رقص ’دبکہ‘ ’یونیسکو‘ کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی وزارت ثقافت نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ غیر سرکاری ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے قائم بین الحکومتی کمیٹی نے اپنے اجلاس کے دوران "فلسطینی لوک دبکہ" [رقص] کو ’یونیسکو‘ کی غیر محسوس ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کرنے کی فلسطینی درخواست کو قبول کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

فلسطینی وزیر ثقافت ڈاکٹرعاطف ابو سیف نے کہا کہ یہ فیصلہ فلسطینی حکام کی جانب سے دو سال قبل سرکاری اور سول اداروں کے تعاون سے شروع کی گئی کوششوں کے نتیجے میں سامنے آیا ہے۔

ابو سیف نےغزہ سے ایک بیان میں مزید کہا کہ فہرست میں فلسطینی روایتی دبکہ کی رجسٹریشن عوامی کہانی کی فائلوں اور فلسطینی کڑھائی آرٹ فائل کے بعد فلسطین کے نام پر رجسٹر ہونے والی تیسری فائل تصور کی جاتی ہے۔

جنین کے قریب مغربی کنارے کے گاؤں میتھالون میں پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین (پی ایف ایل پی) کے قیام کی 46 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک ریلی میں فلسطینی دبکا، ایک عرب لوک لائن رقص، لکڑی سے بنائے گئے فرضی ہتھیاروں کے ساتھ رقص کر رہے ہیں۔ ہفتہ، 21 دسمبر 2013۔ PFLP ایک سخت گیر فلسطینی دھڑا ہے جو اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت کرتا ہے۔ بینر پر عربی لکھا ہے ہماری پسند: مزاحمت، اتحاد، آزادی۔ سب سے لمبے عرصے تک قید محمد راجہ نویرات (ابو رفعت) کی برسی کو یاد رکھیں۔ (اے پی فوٹو/محمد بلاس)

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "یہ فیصلہ ہماری قوم کے لیے ایک فتح کے طور پر آیا ہے، جو روزانہ قابض ریاست کے ساتھ اپنی بقا کی جدو جہد دکررہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ بھی ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب غزہ میں ہمارے فلسطینی عوام فلسطینی وجود اور فلسطینی ورثےکو پوری دنیا کے سامنے تباہ کیا جا رہا ہے۔

ابو سیف نے کہا کہ فلسطینی ثقافتی ورثے کو اس کی مادی اور غیر محسوس شکل میں محفوظ رکھنا فلسطینی شناخت کی تعمیر میں بنیادی تعمیراتی بلاک کے طور پر "ایک خالصتاً قومی مشن ہے، کیونکہ یہ فلسطینی قوم اور اس کے ورثے ، تشخص اور دشناخت کو مٹانے کے خلاف موثر جواب ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں