سال 2023ء میں غرب اردن میں فلسطینی اراضی پر اسرائیلی قبضے میں دو گنا اضافہ ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک فلسطینی اہلکار نے پیر کے روز بتایا ہے کہ مغربی کنارے میں فلسطینی اراضی پر قبضے کی کارروائیاں 2023ء میں اس سے پچھلے سال کے مقابلے میں دگنی ہو گئی ہیں۔

فلسطینی اتھارٹی کے اینٹی وال اینڈ سیٹلمنٹ کمیشن کے سربراہ موید شعبان نے مزید کہا کہ ’’سال 2023ء کے دوران قابض حکام نے قدرتی ذخائر، ضبطی کے احکامات اور زمینوں پر قبضے کے احکامات کا اعلان کرتے ہوئے مختلف ناموں سے مجموعی طور پر 50,524 ایکٹروں پر ہاتھ صاف کیا۔ اس کی نسبت سال 2022ء میں تقریباً 24 ہزار ایکڑ اراضی پر قبضہ کیا گیا تھا۔

غرب اردن میں ارئیل یہودی بستی
غرب اردن میں ارئیل یہودی بستی

شعبان نے رام اللہ میں ایک پریس کانفرنس میں وضاحت کی "2023 میں قابض ریاست کے نو آبادیاتی اقدامات، تمام حوالوں بشمول قانون سازی اور انتظامی آپریشنل سطحوں پر ایک خطرناک موڑ اختیار کر گئے۔"

انہوں نے کہا کہ "کالونائزرز کی دہشت گردی کی وجہ سے 25 فلسطینی بدو برادریوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔ ان میں سے 22 کو غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ کے فوراً بعد ملک بدر کر دیا گیا تھا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "یہ کمیونٹیز 266 خاندانوں پر مشتمل ہیں، جن میں 1,517 افراد شامل ہیں جنہیں ان کی رہائش گاہوں سے دوسری جگہوں پر بے گھر کیا گیا تھا۔ ان میں سے زیادہ تر رام اللہ کے مشرق میں خاص طور پر مشرقی دامن اور وادی اردن میں مرکوز تھے"۔

پریس کانفرنس کے دوران شعبان نے انہدام، ساز و سامان کی تباہی، درختوں کی کٹائی اور آباد کاروں کے حملوں سے متعلق متعدد اعداد وشمار کا جائزہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ آباد کاروں کو بنجمن نیتن یاہو کی سربراہی میں اسرائیلی دائیں حکومت کی حمایت حاصل ہے۔

شعبان نے کہا کہ "یروشلم سمیت مغربی کنارے کی کالونیوں میں نو آبادکاروں کی تعداد کل 730,330 تک پہنچ گئی، جنہیں 180 کالونیوں اور 194 نو آبادیاتی چوکیوں میں تقسیم کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "سال 2023ء میں کل 18 نئی بستی چوکیاں قائم کی گئیں، جن میں سے آٹھ اکتوبر کی سات تاریخ کے فوراً بعد قائم کی گئیں۔ ان میں سے 14 نے اریحا، طوباس، سلفیت، کی گورنریوں میں دیہی بستیوں کی شکل اختیار کر لی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں